LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور پیداواری صلاحیت کا بحران

News Image
کاروباری رہنماؤں اور سرمایہ کاروں کو مصنوعی ذہانت کے معاملے میں ایک عجیب تضاد کا سامنا ہے جہاں ریکارڈ سرمایہ کاری کے باوجود پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔ اس کے باوجود کمپنیاں نوکریوں میں کٹوتیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جو ماہرین کے لیے تشویشناک ہے۔
کاروباری رہنماؤں اور سرمایہ کاروں کو آج ایک گہرے معمہ کا سامنا ہے کیونکہ کمپنیاں مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر پہلے سے کہیں زیادہ رقم خرچ کر رہی ہیں، لیکن وہ توقع کے مطابق پیداواری صلاحیت میں وہ فوائد نہیں دیکھ پا رہی ہیں جن کا طویل عرصے سے وعدہ کیا جا رہا تھا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ننانوے فیصد یا نوے فیصد کارپوریٹ ایگزیکٹوز کا یہ ماننا ہے کہ اے آئی نے ابھی تک ان کے کاروباری اداروں کی مجموعی پیداواری صلاحیت میں کوئی خاص اور انقلابی اضافہ نہیں کیا ہے۔ اس کے باوجود یہ ایک حیرت انگیز بات ہے کہ بہت سے ادارے اب بھی عملے میں کمی یا نوکریوں میں کٹوتیاں کرنے سے گریز نہیں کر رہے ہیں۔ ماہرین اس عمل کو ایک خطرناک رجحان قرار دے رہے ہیں جہاں بغیر کسی ٹھوس پیداواری ثبوت کے محض مستقبل کیتوقع پر ملازمین کو نوکریوں سے نکالا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے معاشی ماہرین اور لیبر مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ ٹیکنالوجی پر بھاری اخراجات اور اس کے متوقع ثمرات کے درمیان ایک واضح خلیج دکھائی دے رہی ہے۔ کمپنیوں کے بورڈ رومز میں اس وقت اس بات پر گرما گرم بحث جاری ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت میں کی جانے والی سرمایہ کاری کا یہ ماحولیاتی یا مالیاتی توازن پائیدار بھی ہے یا نہیں۔ جب تک اے آئی ٹیکنالوجی روزمرہ کے کارپوریٹ امور میں حقیقی معنوں میں انسانی محنت کا نعم البدل یا معاون ثابت نہیں ہوتی، تب تک اس قسم کے اقدامات سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا کارپوریٹ دنیا اپنی اس حکمت عملی میں کوئی تبدیلی لاتی ہے یا نہیں۔ کیا کمپنیاں اپنی ڈیجیٹل حکمت عملی پر نظر ثانی کریں گی یا پھر اندھا دھند کٹوتیوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا، اس کا فیصلہ آنے والے مالیاتی اعداد و شمار اور کاروباری نتائج ہی کریں گے۔ نیکسورا نیوز اس اہم پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور قارئین کو اس حوالے سے بروقت اپ ڈیٹس فراہم کرتا رہے گا۔