LIVE
Loading Breaking News...

ایف ٹی سی کی نگرانی پر مبنی قیمتوں کے تعین پر پابندی کی تیاری

News Image
امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن نے کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ صارفین کی نگرانی پر مبنی قیمتوں کا تعین کرنے کے طریقوں سے قوانین کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔ اس نئی پالیسی دستاویز پر عوامی سطح پر آراء طلب کی گئی ہیں تاکہ اس حوالے سے مزید اقدامات کیے جا سکیں۔
امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن (ایف ٹی سی) نے رواں ہفتے ایک اہم پالیسی دستاویز جاری کی ہے جس میں کمپنیوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ صارفین کی نگرانی پر مبنی قیمتوں کا تعین کرنے کے طریقے قانون شکنی کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ اس نئی پالیسی کے تحت کمیشن نے اس بات پر روشنی ڈ डाली ہے کہ کس طرح ڈیجیٹل پلیٹ فارمز صارفین کے نجی ڈیٹا، براؤزنگ ہسٹری اور خریداری کے رجحانات کا جائزہ لے کر مختلف افراد کے لیے الگ الگ قیمتیں مقرر کرتے ہیں۔ اس عمل کو عام طور پر نگرانی پر مبنی قیمتیں کہا جاتا ہے، جو صارفین کے حقوق کے منافی ہے۔ کمیشن کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے حربے صارفین کے ساتھ دھوکہ دہی اور ان کی معاشی استحصال کا باعث بنتے ہیں۔ ایف ٹی سی نے اس معاملے پر عوامی سطح پر تبصرے اور آراء طلب کی ہیں تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ کمپنیاں کس حد تک اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کر رہی ہیں۔ ریگولیٹرز کا ماننا ہے کہ قیمتوں کا اس طرح ذاتی نوعیت کا تعین شفاف مارکیٹ کے اصولوں کے خلاف ہے اور اس سے صارفین کو غیر منصفانہ مالی بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کمپنیاں اس عمل کو پرسنلائزڈ پرائسنگ کا نام دے کر اس کا دفاع کرنے کی کوشش کرتی ہیں، لیکن حقیقت میں یہ صارفین کی جاسوسی اور ان کے ڈیٹا کا استحصال ہے۔ ایف ٹی سی کی اس نئی پیش رفت سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ای کامرس اداروں پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اپنے الگورتھمز میں شفافیت لائیں۔ اس کے علاوہ، قانون ساز ادارے بھی اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ڈیجیٹل مارکیٹ میں صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مزید سخت قوانین بنائے جائیں۔ آنے والے دنوں میں اس پالیسی دستاویز پر عوامی آراء کا جائزہ لینے کے بعد ایف ٹی سی کی جانب سے مزید قانونی کارروائی یا نئے ضوابط کا اعلان متوقع ہے۔ یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دنیا بھر میں ریگولیٹرز اب ڈیجیٹل دنیا میں صارفین کی پرائیویسی اور مالیاتی منصفانہ رویوں کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ سنجیدہ ہو رہے ہیں۔ تمام متعلقہ اداروں اور کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس تبدیلی کا بغور جائزہ لیں ورنہ انہیں سخت قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔