Technology
مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی: اپنے نظام پر حملے کا خطرہ
مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس تنظیموں کو ہیک کرنے میں انتہائی مہارت رکھتے ہیں جیسا کہ حالیہ حملوں میں دیکھا گیا ہے۔ اداروں کو اپنے دفاع کے لیے خود حریف بن کر اے آئی کا استعمال کرنا ہوگا۔
جدید دور میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی نے جہاں زندگی کے ہر شعبے میں انقلاب برپا کیا ہے، وہیں یہ سائبر سکیورٹی کے میدان میں ایک نئی جنگ کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران سامنے آنے والے مختلف واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس تنظیموں اور اداروں کے نظام کو نشانہ بنانے میں انتہائی مہارت رکھتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ادارے خود اپنے سکیورٹی نظام کو جانچنے اور اس پر حملے کرنے کے لیے اے آئی کا استعمال نہیں کریں گے، تو ان کے حریف اور ہیکرز اس ٹیکنالوجی کو ان کے خلاف ضرور استعمال کریں گے۔ یہ صورتحال تنظیموں کے لیے ایک نیا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ سائبر سکیورٹی کے ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ روایتی طریقہ کار اب کافی نہیں رہے۔ ہیکرز اب پیچیدہ الگورتھمز اور اے آئی ٹولز کی مدد سے منٹوں میں اداروں کی ڈیجیٹل فصیلوں کو عبور کر لیتے ہیں۔ اس پس منظر میں یہ انتہائی ضروری ہو گیا ہے کہ ادارے خود اپنے نظام پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے حملے کریں تاکہ کمزوریوں کا وقت پر پتہ لگایا جا سکے۔ اس عمل کو ریڈ ٹیمنگ یا سکیورٹی سیمولیشن کہا جاتا ہے، جس کی مدد سے اصلی حملے سے پہلے ہی خامیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اے آئی کے اس دور میں تنظیموں کو ایک بالکل نئے اٹیک سرفیس یا خطرے کے دائرہ کار کا سامنا ہے۔ اے آئی سسٹمز کی اپنی اندرونی کمزوریاں اور ڈیٹا پرائیویسی کے مسائل بھی اداروں کے لیے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔ اگر کمپنیاں ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پیشگی حکمت عملی تیار نہیں کرتی ہیں، تو آنے والے دنوں میں ڈیجیٹل سکیورٹی کو برقرار رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ سائبر سکیورٹی کے شعبے میں جدید ترین اے آئی ٹولز کو اپنایا جائے تاکہ حریفوں سے ایک قدم آگے رہا جا سکے۔