World
چارٹس لوئیس ڈی مونٹیسکیو کا فلسفہ خوشی اور انسانی موازنہ
مشہور فرانسیسی فلسفی مونٹیسکیو کا کہنا ہے کہ انسان اگر محض خوش رہنا چاہے تو یہ کام بہت آسان ہے، لیکن ہم دوسروں سے زیادہ خوش رہنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مقصد ہمیشہ مشکل رہتا ہے کیونکہ ہم دوسروں کو ان کی حقیقت سے زیادہ خوش سمجھ بیٹھتے ہیں۔
مشہور فرانسیسی فلسفی اور سیاسی مفکر چارٹس لوئیس ڈی مونٹیسکیو کا ایک سنہری قول آج کے دور میں بھی اتنا ہی سچا اور معنی خیز ہے جتنا کہ اپنے وقت میں تھا۔ انہوں نے انسانی فطرت کی عکاسی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آپ صرف خوش رہنا چاہتے ہیں تو یہ ہدف بڑی آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کے مقابلے میں زیادہ خوش رہنا چاہتے ہیں۔ یہ خواہش ہمیشہ مشکل ثابت ہوتی ہے کیونکہ ہم عموماً دوسروں کو ان کی اصل حقیقت سے زیادہ خوشحال اور مطمئن سمجھ بیٹھتے ہیں۔
آج کے جدید دور میں، اگرچہ انسان مادی ترقی کی انتہا کو چھہ رہا ہے اور ٹیکنالوجی کی بدولت دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے، لیکن انسان کی یہ روایتی کمزوری بدستور برقرار ہے۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے اس دور میں دوسروں کی زندگیوں کا زوم شدہ اور چمکدار رخ دیکھ کر یہ احساس مزید بڑھ گیا ہے۔ لوگ اپنی روزمرہ کی سادہ خوشیوں کو پس پشت ڈال کر دوسروں کی ظاہری زندگی سے اپنا موازنہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے معاشرے میں ذہنی دباؤ اور بے چینی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
فلسفی مونٹیسکیو کا یہ نکتہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ حقیقی سکون اور اطمینان بیرونی دنیا کی دوڑ یا دوسروں سے سبقت لے جانے میں پوشیدہ نہیں ہے۔ جب تک انسان اپنی ذات سے مطابقت پیدا نہیں کرتا اور دوسروں کی زندگیوں کو دیکھ کر اپنے پیمانے مقرر کرتا ہے، تب تک حقیقی خوشی کا حصول ناممکن رہتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ موازنہ کرنے کی اس لایعنی دوڑ سے نکل کر اپنی ذات کی اصل ضروریات اور اندرونی سکن پر توجہ دی جائے۔