Pakistan
حینا جاوید قتل کیس: شوہر اور ملازم تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے سپرد
راولپنڈی کی عدالت نے عسکری اپارٹمنٹس میں قتل ہونے والی حینا جاوید کے معاملے میں ان کے شوہر اور ملازم کو تین دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ مقتولہ کے بھائی کی مدعی میں درج ایف آئی آر میں شوہر، سسر اور گھریلو ملازم کو نامزد کیا گیا ہے۔
راولپنڈی میں پیش آنے والے ہلاکت خیز حینا جاوید قتل کیس میں پیش رفت کرتے ہوئے ڈیوٹی مجسٹریٹ نے مقتولہ کے شوہر اور گھریلو ملازم کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق حینا جاوید کی لاش گزشتہ جمعرات کی شام کو راولپنڈی کے عسکری اپارٹمنٹس میں واقع باتھ روم سے برآمد ہوئی تھی جہاں ان کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود تھے اور گلے میں تار بندھی ہوئی تھی جو شاور کے راڈ کے ساتھ منسلک پائی گئی۔ پولیس نے ابتدائی طور پر شوہر اور ملازم کو حراست میں لیا تھا جنہیں اتوار کے روز عدالت میں پیش کرکے مزید تفتیش کے لیے ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔
سیول لائنز پولیس اسٹیشن میں درج کی جانے والی ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ پاکستان تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 اور 34 کے تحت درج کیا گیا۔ ایف آئی آر مقتولہ کے بھائی فاہد جاوید کی مدعی میں درج کی گئی جس میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی بہن کو شوہر، سسر اور ملازم نے مل کر قتل کیا۔ فاہد جاوید کا کہنا تھا کہ جمعرات کی شام سسر کی جانب سے فون موصول ہوا کہ گھر میں ایمرجنسی ہے، جب وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پہنچے تو انہوں نے حینا کی لاش باتھ روم میں پائی۔ مدعی نے یہ بھی الزام لگایا کہ شادی کے بعد سے حینا کو شدید تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتولہ کے گلے پر گلا گھونٹنے کا نشان، ہونٹ کے نیچے زخم اور خون بہنے کے آثار پائے گئے۔ تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ موت کی حتمی وجہ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی (PFSA) کی حتمی رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔ دوسری جانب، پولیس نے مقتولہ اور دیگر افراد کے موبائل فونز قبضے میں لے لیے ہیں جبکہ سسر کے کردار کا تعین کرنے کے لیے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے اور انہیں شہر نہ چھوڑنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
واقعے کی شفاف اور جامع تفتیش کے لیے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انویسٹی گیشن سیف اللہ کی سربراہی میں سات رکنی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی جا چکی ہے۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ ریمانڈ کی مدت مکمل ہونے کے بعد تفتیشی رپورٹ پیش کی جائے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور کسی بھی مجرم کو قانون کی گرفت سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔