LIVE
Loading Breaking News...

موبائل فون اور یادداشت کی خرابی: تحقیق

News Image
نئی تحقیق کے مطابق آتش بازی کی تقریب کو موبائل پر ریکارڈ کرنے کے بجائے براہ راست دیکھنے والے افراد مناظر کو زیادہ بہتر طریقے سے یاد رکھتے ہیں۔ اس رجحان کو محققین نے فوٹو ٹیکنگ امپیئرمنٹ ایفیکٹ کا نام دیا ہے جہاں کیمرہ یادداشت کا متبادل بن جاتا ہے۔
آج کے اس دور میں جب بھی کوئی بڑا تہوار، تقریب یا آتش بازی کا مظاہرہ ہوتا ہے تو ہجوم میں موجود اکثر افراد فوراً اپنے موبائل فونز نکال لیتے ہیں۔ کیمرے کے ذریعے ہر لمحے کو قید کرنے کی یہ دوڑ اب ہمارے معاشرے کا معمول بن چکی ہے۔ تاہم، حال ہی میں کی جانے والی ایک سائنسی تحقیق نے اس حوالے سے انتہائی دلچسپ انکشافات کیے ہیں، جن کے مطابق جو لوگ آتش بازی کے مناظر کو کیمرے میں محفوظ کرنے کے بجائے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، وہ اس خوبصورت منظر کو زیادہ بہتر اور طویل عرصے تک یاد رکھتے ہیں۔ محققین کے مطابق اس رجحان کو فوٹو ٹیکنگ امپیئرمنٹ ایفیکٹ کہا جاتا ہے۔ جب انسان کسی تقریب کو خود دیکھنے کے بجائے اسکرین کے ذریعے ریکارڈ کرتا ہے، تو دماغ کو یہ سگنل ملتا ہے کہ یادداشت کا یہ بوجھ اب کیمرے پر منتقل ہو چکا ہے۔ اس عمل کی وجہ سے دماغ خود اس واقعے کو یاد رکھنے کی زحمت نہیں کرتا، اور نتیجتاً ہم اس تجربے کے اہم حصوں کو فراموش کرنے لگتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ اسکرین کی رکاوٹ کے بغیر براہ راست مناظر کا مشاہدہ کرتے ہیں، ان کا دماغ اور حسیات تمام تفصیلات کو گہرائی سے جذب کرتی ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس جدید دور میں ٹیکنالوجی نے ہماری زندگیوں کو آسان تو ضرور بنایا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ہمارے قدرتی ادراک اور یادداشت کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ جب ہم ہر وقت ہر لمحے کو ڈیجیٹل فارمیٹ میں محفوظ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو ہم اس لمحے کی اصل خوبصورتی اور اس کے جذباتی اثرات سے محروم ہو جاتے ہیں۔ آتش بازی کے اس شاندار شو کی مثال ہی لے لیجیے جہاں چالیس مختلف افراد ایک ہی آٹھ سیکنڈ کے منظر کو الگ الگ زاویوں سے ریکارڈ کر رہے ہوتے ہیں، مگر وہ اصل لمحہ ان کے اپنے ذہن میں ہمیشہ کے لیے محفوظ نہیں رہ پاتا۔ لہذا، ماہرینِ نفسیات اور محققین کا مشورہ ہے کہ ہمیں اپنی روزمرہ زندگی اور خصوصی تقریبات میں ٹیکنالوجی کے اس حد سے زیادہ استعمال پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ یادیں ہمارے ذہن میں تازہ رہیں اور ہم ماضی کے خوبصورت لمحات کو سچے دل سے محسوس کر سکیں، تو ہمیں کیمرے کے استعمال کو کم کر کے اپنی آنکھوں سے براہ راست دنیا کا نظارہ کرنے کی عادت اپنانی چاہئے۔ یہ چھوٹی سی تبدیلی ہماری ذہنی صلاحیتوں اور یادداشت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔