LIVE
Loading Breaking News...

کین گریفن کا اے آئی بحران میں چار ارب ڈالر کا شاندار منافع

News Image
کین گریفن نے حال ہی میں مصنوعی ذہانت کے سیمی کنڈکٹر سیکٹر میں آنے والے ایک بڑے مالی بحران سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اربوں ڈالر کا منافع کمایا ہے۔ انہوں نے تباہ ہونے والے فنڈز کے اثاثے کم قیمت پر خرید کر اپنی کاروباری صلاحیت کا ایک بار پھر لوہا منوایا ہے۔
وال اسٹریٹ کے معروف سرمایہ کار اور سٹاڈیل (Citadel) کے بانی کین گریفن نے ایک بار پھر اپنی کاروباری ذہانت کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں آنے والے ایک بڑے مالیاتی بحران کو اربوں ڈالر کے منافع میں تبدیل کر دیا۔ حالیہ دنوں میں سچویشنل اوئیرنیس نامی ایک لیوریجڈ فنڈ کو جولائی کے مہینے میں شدید ترین گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کی وجہ سے اس کی مالیت میں 67 فیصد تک کمی واقع ہو گئی تھی۔ اس اچانک انہدام نے پوری مارکیٹ میں ہلچل مچا دی تھی اور سرمایہ کاروں میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ اس افراتفری کے عالم میں کین گریفن نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انتہائی حکمت عملی کے ساتھ قدم اٹھایا۔ انہوں نے اس بحران سے دوچار فنڈ کے تباہ حال اے آئی سیمی کنڈکٹر پوزیشنز کو ان کی اصل قیمت سے دس فیصد سے زائد کے ڈسکاؤنٹ پر خرید لیا۔ اس ہوشیارانہ اقدام نے نہ صرف ان کے اپنے ادارے کو مارکیٹ کے خطرات سے محفوظ رکھا بلکہ انہیں قلیل مدت میں تقریبا چار ارب ڈالر کا عظیم الشان منافع بھی کما کر دیا۔ ماہرین اقتصادیات اس ڈیل کو کین گریفن کی تاریخ کے بہترین مالیاتی فیصلوں میں سے ایک قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب، اس پوری صورتحال نے اس بات کو بھی اجاگر کیا ہے کہ کس طرح دنیا کے چوٹی کے سرمایہ کار مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ اور بحرانوں کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں۔ جہاں عام سرمایہ کار اس منڈی کے بیٹھ جانے سے خوفزدہ تھے اور اپنے اثاثےڑی کوڑیوں کے دام فروخت کرنے پر مجبور تھے، وہیں کین گریفن جیسے ماہرین نے اس موقع کو غنیمت جانا۔ سٹاڈیل کی جانب سے اس بحران کے دوران اپنے رسک مینجمنٹ کو بہتر بنانا اور وقت پر درست فیصلے کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مالیاتی منڈیوں میں دور اندیشی کتنی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کامیابی کے بعد کین گریفن کا شمار ایک بار پھر دنیا کے ان چند با اثر ترین افراد میں ہونے لگا ہے جو کسی بھی مشکل ترین معاشی صورتحال کو اپنے لیے منافع بخش موقع میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت اور سیمی کنڈکٹر کی صنعت میں سرمایہ کاری کے رجحانات پر گہرے اثرات مرتب کرے گا، اور دوسرے بڑے فنڈز بھی اب رسک مینجمنٹ کے حوالے سے زیادہ محتاط رویہ اختیار کریں گے۔