World
خلیجی جنگ اور سعودی عرب کا موقف: سابق امریکی سفیر کا تجزیہ
سابق امریکی سفیر نے خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سعودی عرب کی مجبوریوں پر روشنی ڈالی ہے۔ سعودی عرب خطے میں ایک بڑی جنگ سے بچنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے لیکن حالات اسے اس تنازعے کی طرف کھینچ رہے ہیں۔
خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکی ایران تنازع کے دوران سابق امریکی سفیر نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ کس طرح سعودی عرب کو ایک ایسی جنگ میں گھسیٹا جا رہا ہے جس سے وہ ہر ممکنہ طریقے سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کا بنیادی محور ہمیشہ سے علاقائی استحکام اور اقتصادی ترقی رہا ہے، لیکن موجودہ حالات نے مملکت کو ایک پیچیدہ دوہرے مخمصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ سابق امریکی سفیر نے اپنے ایک تجزیے میں بتایا ہے کہ خطے میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں اور تمام تر سفارتی کوششوں کے باوجود حالات قابو سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ سعودی عرب طویل عرصے سے اس بات کی کوشش کرتا رہا ہے کہ واشنگتن اور تہران کے درمیان براہ راست تصادم سے خلیجی ممالک کو محفوظ رکھا جائے، کیونکہ کسی بھی جنگ کی صورت میں سب سے زیادہ نقصان خطے کے معاشی انفراسٹرکچر کو پہنچے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی معیشت اور وژن 2030 کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کو امن اور استحکام کی اشد ضرورت ہے۔ تاہم، حالیہ عسکری پیش رفت اور خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد مملکت کے لیے اس تنازع سے مکمل طور پر لاتعلق رہنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر مبصرین اس صورتحال کو خطے کے لیے ایک انتہائی خطرناک موڑ قرار دے رہے ہیں۔ دنیا بھر کے ممالک اور سفارتی حلقے اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر فوری طور پر جنگ بندی اور مذاکرات کے دروازے نہ کھولے گئے تو اس کے اثرات پوری دنیا بالخصوص توانائی کی عالمی منڈیوں پر پڑیں گے۔ سعودی قیادت اس بحران سے نکلنے کے لیے سفارتی سطح پر مسلسل رابطے کر رہی ہے تاکہ خلیج میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی تباہ کن جنگ سے بچا جا سکے جو خطے کے مستقبل کو تاریک کر سکتی ہے۔