LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا تجارتی خسارہ خوراک اور مشینری کی درآمدات سے بڑھ گیا

News Image
پاکستان کے تجارتی خسارے میں جولائی کے دوران اکیس فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی بڑی وجہ خوراک اور مشینری کی درآمدات میں تیزی ہے۔ تاہم اس دوران ملکی برآمدات میں بھی تیرہ فیصد سے زیادہ کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
نیکسورا نیوز اردو کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے تجارتی خسارے میں رواں مالی سال کے پہلے ماہ جولائی کے دوران تقریباً چھبیس فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تجارتی خسارے میں اس اچانک اضافے کی بنیادی وجہ خوراک اور مشینری کی درآمدات میں ہونے والا نمایاں اضافہ ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق ملک میں صنعتی سرگرمیوں اور غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درآمدات کا دباؤ بڑھ رہا ہے، جس نے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی تجارت کے توازن پر بوجھ ڈال دیا ہے۔ سرਕਾਰੀ اعداد و شمار کے مطابق صرف خوراک کی درآمدات میں آٹھ اعشاریہ ایک دو فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ حجم آٹھ سو پانچ اعشاریہ پانچ ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ دوسری جانب مشینری کی درآمدات میں بھی تیزی دیکھی گئی ہے تاکہ صنعتی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔ وفاقی وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ درآمدات میں اضافہ ہوا ہے، تاہم برآمدات کے محاذ پر بھی حوصلہ افزا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ جولائی کے مہینے میں سالانہ بنیادوں پر اشیاء اور خدمات کی برآمدات تیرہ اعشاریہ ایک فیصد اضافے کے ساتھ تین ارب چورانوے کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ریئل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ یعنی ریر (REER) بھی جولائی میں بڑھ کر ایک سو سات اعشاریہ نو پر پہنچ گیا ہے جو ملکی معیشت کی بیرونی مسابقت کے حوالے سے ایک اہم اشاریہ مانا جاتا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ برآمدات میں ہونے والا اضافہ خوش آئند ہے، تاہم درآمدی بل میں بے تحاشا اضافہ تجارتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ برآمدات کو مزید فروغ دینے کے ساتھ ساتھ غیر ضروری درآمدات کو قابو میں رکھنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اپنائیں، تاکہ ملکی معیشت کو طویل المدتی استحکام فراہم کیا جا سکے اور تجارتی خسارے کے منفی اثرات سے بچا جا سکے۔