LIVE
Loading Breaking News...

ایران میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا امکان، نئی امریکی پابندیوں کا اثر

News Image
امریکی پابندیوں کے خطرات اور بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات کے درمیان ایرانی حکومت نے ملک میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے کا عندیہ دے دیا ہے۔ خوراک اور دیگر اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سابقہ عوامی ردعمل کی وجہ سے اس معاملے پر انتہائی احتیاط سے غور کیا جا رہا ہے۔
تہران: نئی امریکی پابندیوں کے قریب آنے والے خطرے کے درمیان ایرانی حکومت نے ملک میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا سنجیدہ اشارہ دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں خوراک اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی وجہ سے عام شہریوں کی مشکلات میں پہلے ہی نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ حکومت کے اس ممکنہ فیصلے کے بعد معاشی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ ملک کو پہلے ہی شدید بیرونی دباؤ اور مہنگائی کا سامنا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاہم اس فیصلے پر عمل درآمد کرنے سے قبل حکام کو عوامی ردعمل کا بھی زبردست خوف ہے۔ ایران میں ماضی میں بھی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد شدید عوامی احتجاج اور بدامنی کے واقعات رونما ہو چکے ہیں، جنہیں قابو کرنے میں انتظامیہ کو کٹھن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ نازک صورتحال میں کوئی بھی نیا قدم اٹھانے سے پہلے انتہائی محتاط انداز میں غور و خوض کیا جا رہا ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیرونی پابندیوں کے باعث عوام کی قوت خرید شدید متاثر ہوئی ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تو اس سے ٹرانسپورٹیشن اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں مزید تیزی آ سکتی ہے، جس سے نچلے اور متوسط طبقے پر مالی بوجھ ناقابل برداشت حد تک بڑھ جائے گا۔ حکومت کے لیے اس وقت یہ فیصلہ ایک دو طرفہ تلوار کی مانند ہے، جہاں ایک طرف معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے مالی وسائل کی ضرورت ہے تو دوسری طرف عوامی غم و غصے کو روکنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔