LIVE
Loading Breaking News...

گاڑی کی ٹریڈ اِن میں سات ہزار ڈالر کی غلطی سے بچیں: سوز اورمین کا مشورہ

News Image
معروف مالیاتی ماہر سوز اورمین کا کہنا ہے کہ گاڑی خریدنا یا رکھنا مجبوری ہو سکتا ہے لیکن پرانی گاڑی تبدیل کرتے وقت سات ہزار ڈالر تک کا نقصان اٹھانے سے گریز کرنا چاہیے۔ مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے اس قسم کے مہنگے فیصلوں سے بچا جا سکتا ہے۔
امریکہ کی معروف مالیاتی مشیر سوز اورمین نے کار مالکان کو خبردار کیا ہے کہ نئی گاڑی خریدتے وقت یا پرانی گاڑی کو ٹریڈ اِن کرتے وقت چند عام غلطیوں کی وجہ سے ہزاروں ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ جدید دور میں ذاتی سواری یا ایک سے زائد گاڑیاں رکھنا ناگزیر ہو چکا ہے، لیکن اس عمل کے دوران مالیاتی بوجھ کو دانشمندی سے سنبھالنا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے خاص طور پر سات ہزار ڈالر کی اس بڑی غلطی کا ذکر کیا جو لوگ پرانی گاڑی کو ڈیلرشپ پر تبدیل کرتے وقت کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اکثر خریدار اپنی پرانی گاڑی کا بقایا قرض یا لیز کا بوجھ نئی گاڑی کے قرض میں منتقل کر دیتے ہیں، جس سے گاڑی کی اصل مالیت اور قرض کے درمیان فرق بڑھ جاتا ہے۔ سوز اورمین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے مالی فیصلوں سے نہ صرف قرض کا بوجھ بڑھتا ہے بلکہ گاڑی خریدنے والے طویل المدتی مالی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پرانی گاڑی کے قرض کو نئی گاڑی میں ضم کرنے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ صارفین کو بھاری سود اور اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ گاڑی خریدنے کا فیصلہ ہمیشہ اپنی اصل مالی حیثیت کو مدنظر رکھ کر کرنا چاہیے اور غیر ضروری قرضوں سے ہر ممکن پرہیز کیا جائے۔ ماہرین مالیات کا یہ بھی مشورہ ہے کہ ٹریڈ اِن کرنے سے پہلے گاڑی کی مارکیٹ ویلیو کا درست تخمینہ لگایا جائے تاکہ ڈیلرشپ پر کسی بھی قسم کے نقصان سے بچا جا سکے۔ اگر پرانی گاڑی کی قیمت اس پر بقایا قرض سے کم ہے، تو نئی گاڑی خریدنے کے عمل کو کچھ عرصے کے لیے مؤخر کر دینا زیادہ بہتر حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس طرح کے فیصلوں سے نہ صرف موجودہ بجٹ متوازن رہتا ہے بلکہ مستقبل کے لیے بھی بہترین مالی استحکام حاصل ہوتا ہے۔