World
انڈیانا طوفان: بارہ دن بعد بھی بجلی بحال نہ ہو سکی
امریکہ کی ریاست انڈیانا کے علاقے گیری میں شدید طوفان گزرنے کے بارہ روز بعد بھی ہزاروں شہری بجلی کی فراہمی سے محروم ہیں۔ غربت کے شکار اس علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی کسمپرسی اور بقا کی جنگ لڑنے پر مجبور ہیں۔
امریکہ کی ریاست انڈیانا کے مختلف علاقوں میں شدید طوفان کو گزرے ہوئے بارہ دن سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن تاحال ہزاروں صارفین کو بجلی کی فراہمی بحال نہیں کی جا سکی ہے۔ طوفان کے باعث ہونے والی تباہی کے بعد سے نظام زندگی شدید متاثر ہے اور متعلقہ اداروں کی جانب سے بحالی کے کام تاحال سست روی کا شکار ہیں۔ اس طوفان کے نتیجے میں بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا تھا جس کی مرمت کا کام طویل ہوتا جا رہا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال گیری (Gary) نامی قصبے میں ہے، جہاں پہلے ہی آبادی کا ایک بڑا حصہ یعنی تقریباً ایک تہائی لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ بجلی کی طویل بندش نے ان غریب خاندانوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے اور وہ بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ اس قصبے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ بارہ دنوں سے انتہائی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں اور یہ ان کے لیے محض ایک عارضی تکلیف نہیں بلکہ براہ راست 'سرائیول موڈ' یا بقا کی جنگ بن چکی ہے۔ طوفان کے باعث ریفریجریٹرز بند پڑے ہیں، ادویات کو محفوظ رکھنا مشکل ہو گیا ہے اور شدید گرمی یا حبس کے باعث بزرگوں اور بچوں کی صحت کے حوالے سے شدید خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ اور بجلی فراہم کرنے والے اداروں پر شہریوں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ بحالی کے عمل میں مطلوبہ تیزی نہیں دکھا رہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ طوفان گزرے اتنا عرصہ بیت جانے کے باوجود بنیادی نظام کا بحال نہ ہونا انتظامی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دوسری جانب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں اور مرمتی کام جاری ہیں، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ نقصان کا حجم بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے تمام صارفین کو بجلی کی بحالی میں مزید کچھ دن لگ سکتے ہیں۔ اس دوران انڈیانا کے ان متاثرہ علاقوں کے باسی اپنے ہی گھروں میں کسمپرسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں اور زندگی کی بنیادی بحالی کے منتظر ہیں۔