LIVE
Loading Breaking News...

غزہ جنگ: لاپتہ بچوں اور رشتہ داروں کی تلاش میں سرگردان خاندان

News Image
غزہ کے جنگ زدہ علاقوں میں خاندان اپنے پیاروں اور لاپتہ بچوں کی تلاش کے لیے شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ جنگ کے طویل اثرات کی وجہ سے بچوں کی گمشدگی کے معاملات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
غزہ میں طویل اور تباہ کن جنگ کے بعد اب بھی ہزاروں خاندان اپنے پیاروں، بالخصوص معصوم بچوں کی تلاش میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ کئی سالوں پر محیط اس کشیدگی نے نہ صرف بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا ہے بلکہ بے شمار خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے بکھر کر رکھ دیا ہے۔ والدین اپنے بچھڑے ہوئے بچوں کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے دربہ در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کے پاس بھی متاثرہ افراد کا مکمل ریکارڈ محفوظ کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی امدادی تنظیمیں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ جنگ کے دوران بہت سے بچے اپنے خاندانوں سے بچھڑ گئے تھے یا ملبے تلے دب کر لاپتہ ہو گئے۔ ان بچوں کے والدین ہر گزرتے دن کے ساتھ گہرے ذہنی اور جذباتی صدمے سے گزر رہے ہیں، جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ اس المیے کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ غزہ کے اندر مواصلاتی نظام اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے لاپتہ افراد کی تلاش کا عمل انتہائی سست روی کا شکار ہے۔ متاثرہ خاندانوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین انسانی مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور بچوں کی بازیابی یا ان کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ دوسری جانب، ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ میں امن کی بحالی اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے بغیر اس نوعیت کے انسانی مسائل کا حل ناممکن ہے، جو خطے کے مستقبل کے حوالے سے ایک بڑا سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔