Sports
کرکٹ لیجنڈز کا وزیراعظم کو خط، عمران خان کے طبی علاج کا مطالبہ
بیس سے زائد بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں اور لیجنڈز نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر عمران خان کے سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق طبی علاج کی اپیل کی ہے۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عمران خان کو ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے اور خاندان سے ملاقاتوں کی اجازت دی جائے۔
دنیا بھر کے بائیس بین الاقوامی کرکٹرز اور سابق کپتانوں نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے نام ایک خط ارسال کیا ہے جس میں سابق وزیراعظم اور لیجنڈری کرکٹر عمران خان کے طبی علاج کے لیے سپریم کورٹ کے حالیہ احکامات پر من و من عمل درآمد کرنے کی پرزور اپیل کی گئی ہے۔ اس بات کا انکشاف اتوار کے روز معروف میڈیا رپورٹ میں کیا گیا۔ یاد رہے کہ اٹھارہ اگست کو سپریم کورٹ نے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ عمران خان کو دو دن کے اندر اسلام آباد کے نجی اسپتال شففا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے تاکہ ایک کثیر الشعبہ میڈیکل بورڈ ان کا معائنہ اور علاج کر سکے۔ تاہم بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ انہیں شففا انٹرنیشنل کے بجائے سرکاری اسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یعنی پمز لے جایا گیا۔ دریں اثنا، یہ اطلاعات بھی موصول ہوئیں کہ وہ پمز میں مطلوبہ سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث سی ٹی انجیوگرافی جیسے ضروری طبی ٹیسٹ نہیں کروا سکے۔ اس خط میں مائیکل ایتھرٹن، ایلکس بلیک ویل، ایلن بارڈر، سنیل گواسکر، ایدم گلکرسٹ، اور کپل دیو سمیت اکیس سابق کپتانوں کے دستخط شامل ہیں۔ خط لکھنے والے سابق کرکٹرز کا کہنا ہے کہ وہ یہ خط سیاستدانوں کے طور پر نہیں بلکہ سابق ساتھیوں اور حریفوں کی حیثیت سے لکھ رہے ہیں جو کرکٹ کے میدان میں ایک خاص رشتہ رکھتے ہیں۔ ان کا مقصد ملکی داخلی قانونی عمل میں مداخلت کرنا نہیں بلکہ محض انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مناسب طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ سابق کرکٹرز نے اپنے اس خط میں مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق تشکیل کردہ میڈیکل بورڈ کو، جس میں عمران خان کے ذاتی ڈاکٹرز بھی شامل ہوں، ان کی صحت کا مکمل اور آزادانہ معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے، بالخصوص ان کی دائیں آنکھ کی بینائی کے حوالے سے سامنے آنے والی شکایات کا ازالہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ خط میں عدالت کی جانب سے بحال کیے جانے والے ہفتہ وار خاندانی دوروں کو بغیر کسی انتظامی تاخیر کے بحال رکھنے کا بھی پرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ عمران خان اگست دو ہزار تئیس سے جیل میں قید ہیں اور حالیہ چند ماہ کے دوران ان کی صحت کے حوالے سے مختلف حلقوں کی طرف سے گہری تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ سابق کھلاڑیوں نے اس سے قبل فروری کے مہینے میں بھی حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ عمران خان کو فوری اور مناسب طبی توجہ اور باعزت سلوک فراہم کیا جائے۔