LIVE
Loading Breaking News...

اسکول کے طلباء پر برقی جھٹکے دینے والے دستانوں کا استعمال، پولیس سے روکنے کا مطالبہ

News Image
امریکہ کے ایک اسکول ڈسٹرکٹ نے پولیس سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ طلبا کے خلاف برقی جھٹکے دینے والے خطرناک دستانوں کا استعمال فوری طور پر بند کرے۔ تعلیمی اداروں کو طلباء کے لیے ایک محفوظ جگہ قرار دیتے ہوئے اس بہیمانہ تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
حال ہی میں سامنے آنے والے ایک انتہائی تشویشناک واقعے نے تعلیمی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، جہاں ایک اسکول ڈسٹرکٹ نے باضابطہ طور پر پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طلبا کے خلاف برقی جھٹکے دینے والے خطرناک اور تشدد آمیز دستانوں کا استعمال بند کرے۔ اسکول انتظامیہ اور مقامی کمیونٹی کا کہنا ہے کہ تعلیمی ادارے طلباء کی حفاظت اور ان کی ذہنی و جسمانی نشوونما کے لیے ہوتے ہیں، نہ کہ انہیں اس طرح کے غیر انسانی اور ظالمانہ سزاؤں کا نشانہ بنانے کے لیے۔ اس نوعیت کے اقدامات نہ صرف بچوں کے بنیادی حقوق کی پامالی ہیں بلکہ اسکول کے ماحول کو بھی خوف و ہراس کا شکار بناتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایک طالب علم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ کوئی اسکول کے راہداریوں میں چلے اور اپنے کسی ہم جماعت کو برقی جھٹکوں کا سامنا کرتے ہوئے دیکھے۔ اسکول کو ہمیشہ ایک محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے جہاں بچے بلا خوف و خطر علم حاصل کرنے آتے ہیں، لیکن جب قانون نافذ کرنے والے ادارے یا عملہ اس طرح کے ہتھکنڈے اپناتا ہے تو یہ پورے تعلیمی نظام پر ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ والدین اور سول سوسائٹی کے ارکان نے بھی اس واقعے پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے اور متعلقہ حکام سے اس پالیسی کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسکول ڈسٹرکٹ کے اعلیٰ حکام نے پولیس ڈپارٹمنٹ کو خط لکھ کر اس بات پر زور دیا ہے کہ طلبا کے ساتھ اس قسم کا سلوک کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہے۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ طلبا کے تحفظ کے لیے متبادل اور پرامن طریقے اپنائیں تاکہ اسکولوں کا تقدس بحال رہ سکے۔ ماہرینِ تعلیم کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے بچوں پر نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو ان کی پوری زندگی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ اسکول کے ماحول کو ہر قسم کے تشدد سے پاک رکھا جائے اور بچوں کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔