LIVE
Loading Breaking News...

کیلیفورنیا میں آرٹس ایجوکیشن فنڈز کی واپسی کی حقیقت

News Image
کیلیفورنیا میں اسکولوں کو کے-12 آرٹس کی تعلیم کے لیے ایک ارب ڈالر کی خطیر رقم فراہم کی گئی تھی، جسے اسکولوں کی جانب سے واپس کیا جا رہا ہے۔ ریاست کی جانب سے یہ غیر خرچ شدہ فنڈز ان اسکولوں میں دوبارہ تقسیم کیے جا رہے ہیں جو پروپوزیشن 28 کے تحت درست طریقے سے رقم خرچ کر رہے ہیں۔
امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں ایک عجیب صورتحال اس وقت پیدا ہو گئی جب اسکولوں کو کے-12 آرٹس اور موسیقی کی تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے مہیا کی جانے والی کروڑوں ڈالر کی رقم واپس کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ ووٹرز نے ایک ارب ڈالر سے زائد کی رقم اس مقصد کے لیے منظور کی تھی تاکہ طلبا کو بہتر تعلیمی اور تخلیقی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ تاہم، انتظامی مسائل، فنڈز کے درست استعمال میں ناکامی اور ضوابط کی سختی کی وجہ سے کئی اسکول اضلاع یہ فنڈز استعمال کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ریاستی اعداد و شمار اور تعلیمی تنظیم 'کریٹ سی اے' (Create CA) کی رپورٹس کے مطابق، جو اسکول اپنے سالانہ اخراجات کی رپورٹس میں فنڈز کے ضوابط پر پورا نہیں اتر سکے، انہیں یہ رقم واپس کرنا پڑی ہے۔ ریاست کی طرف سے ان غیر خرچ شدہ فنڈز کو اب انفرادی اسکولوں اور اضلاع میں دوبارہ تقسیم کیا جا رہا ہے جو پروپوزیشن 28 کے تحت اپنے فنڈز کو قانون کے مطابق اور موثر انداز میں خرچ کر رہے ہیں۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ آرٹس کی تعلیم طلبا کی ذہنی نشوونما اور تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، لیکن بیوروکریٹک رکاوٹیں اور اساتذہ کی کمی کی وجہ سے اسکول فنڈز کے بروقت استعمال میں مشکلات کا شکار ہیں۔ متعدد اسکولوں کے پاس آرٹس کے اساتذہ کی وہ تعداد نہیں ہے جو اس رقم کو قانون کے دائرے میں رہ کر خرچ کر سکے، جس کی وجہ سے یہ فنڈز غیر استعمال شدہ رہ گئے اور انہیں واپس کرنا پڑا۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس عمل سے تعلیمی نظام میں شفافیت آئے گی اور فنڈز کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے گا۔ ریاست کیلیفورنیا کے محکمہ تعلیم کی جانب سے اسکولوں کی معاونت کے لیے مزید اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ برسوں میں اسکول اس اہم فنڈنگ سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں اور طلباء کو آرٹس اور موسیقی کی بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔