LIVE
Loading Breaking News...

اے آئی اکانومکس: ٹوکن میکزنگ اور کاروباری خودمختاری کی جنگ

News Image
مصنوعی ذہانت کی صنعت کارپوریشنز کو ٹوکنز اور استعمال کی بنیاد پر کارکردگی جانچنے کی ترغیب دے رہی ہے جو کہ بنیادی طور پر وینڈر کے ریونیو میٹرکس ہیں۔ اس رجحان کا مقصد کاروباری اداروں کو اپنی خودمختار ویلیو تخلیق کرنے سے روکنا اور ٹیک کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی موجودہ صنعت چاہتی ہے کہ کاروباری ادارے اپنی پیش رفت کو ٹوکنز، ماڈل کالز اور استعمال کی دیگر اکائیوں کے ذریعے ناپیں۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام پیمانے دراصل وینڈر ریونیو میٹرکس ہیں، یعنی اس سے اصل فائدہ مصنوعی ذہانت فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ہوتا ہے نہ کہ متعلقہ کاروباری ادارے کو۔ اس صورتحال کو ٹوکن میکزنگ کا نام دیا جا رہا ہے، جس میں کاروباری دنیا کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ جتنی زیادہ اے آئی کی کھپت ہوگی، اتنا ہی زیادہ فائدہ ہوگا۔ لیکن یہ میٹرکس انٹرپرائز ویلیو یا کاروباری قدر کا صحیح تخمینہ پیش نہیں کرتے۔ کینووا کی مثال اس ضمن میں ایک روشن نظیر پیش کرتی ہے، جہاں انڈسٹری کے اندرونی رجحانات اور مالیاتی ترجیحات نے نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ جب ادارے اپنے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور اے آئی کے استعمال کو صرف تھرڈ پارٹی وینرز کے ماڈلز پر منحصر کر لیتے ہیں، تو وہ خودمختاری سے محروم ہونے لگتے ہیں۔ اس انحصار کے نتیجے میں اخراجات تو تیزی سے بڑھتے ہیں لیکن طویل مدتی کاروباری منافع اور ویلیو تخلیق میں وہ تیزی نظر نہیں آتی جو کہ ایک حقیقی ٹیکنالوجی کی تبدیلی سے متوقع ہوتی ہے۔ اس رجحان کے برعکس، اصل کامیابی خودمختار الفا (Sovereign Alpha) حاصل کرنے میں ہے، یعنی ادارے اپنے فیصلوں اور ڈیٹا پر خود مکمل اختیار رکھیں بجائے اس کے کہ وہ اے آئی وینرز کے طے کردہ معاشی ماڈلز کے غلام بن جائیں۔ کاروباری دنیا کے لیے اب یہ جاننا انتہائی ضروری ہو چکا ہے کہ اے آئی کے بجٹ کا کنٹرول کس کے پاس ہے۔ اگر کمپنیاں صرف ٹوکنز کی کھپت پر توجہ مرکوز رکھیں گی تو وہ طویل مدتی میں اپنے مسابقتی فوائد کھو بیٹھیں۔ یہ وقت اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ کاروباری ادارے اپنے مصنوعی ذہانت کے حکمت عملیوں پر نظر ثانی کریں۔ وینرز کے فراہم کردہ سطحی میٹرکس سے ہٹ کر، حقیقی کاروباری اقدار اور خود مختار ڈیجیٹل اثاثوں کی تعمیر پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے تاکہ اے آئی کی اصل طاقت کو اپنے مفاد میں استعمال کیا جا سکے نہ کہ صرف ٹیکجنٹس کی آمدنی بڑھانے کے لیے۔