LIVE
Loading Breaking News...

براڈ کام کا 80 ارب ڈالر قرض کا منصوبہ اور اے آئی چپس

News Image
براڈ کام کمپنی مصنوعی ذہانت کی چپ تیار کرنے اور انفراسٹرکچر کو وسعت دینے کے لیے بڑی مالیاتی منڈیوں سے 70 سے 80 ارب ڈالر کا قرض اٹھانے پر غور کر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد اینتھروپک جیسی بڑی اے آئی کمپنیوں کے لیے چپ سازی کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔
عالمی ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کی معروف کمپنی براڈ کام نے مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کمپنی اس وقت مختلف مالیاتی اداروں اور قرض دہندگان کے ساتھ 70 سے 80 ارب ڈالر کے بھاری بھرکم قرض کے حصول کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔ اس خطیر سرمائے کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے جدید چپس اور ضروری کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ اس مجوزہ مالیاتی انتظام سے مستفید ہونے والی اہم کمپنیوں میں اینتھروپک (Anthropic) بھی شامل ہے، جو اے آئی کے شعبے میں تحقیق اور ترقی کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو تربیت دینے اور چلانے کے لیے انتہائی طاقتور پروسیسرز اور سیمی کنڈکٹرز کی ضرورت ہوتی ہے، اور براڈ کام کا یہ اقدام اسی کمی کو پورا کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اتنی بڑی رقم کی دستیابی سے چپ سازی کی پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس سے مستقبل میں اے آئی ٹیکنالوجی کی ترقی کو مزید مہمیز ملے گی۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کے مطابق، یہ قدم اس بات کا غماز ہے کہ بڑی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر کتنا بڑا داؤ لگا رہی ہیں۔ اگرچہ اتنی بڑی مقدار میں قرض اٹھانا مالیاتی لحاظ سے ایک بڑا خطرہ بھی ہو سکتا ہے،تاہم اے آئی مارکیٹ میں برتری حاصل کرنے کے لیے انفراسٹرکچر کی تیاری ناگزیر ہو چکی ہے۔ اس ڈیل کے حتمی ہونے کے بعد سیمی کنڈکٹر مارکیٹ پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے اور سرمایہ کار بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔