Business
امریکہ میں کھیلوں کی شرط بندی اور اسٹاک پورٹ فولیو کا انخلا
امریکہ میں کھیلوں پر شرط لگانے کا جنون تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کے باعث متعدد شہری اپنے اسٹاک پورٹ فولیو کو خالی کر کے خطرناک اور نقصان دہ قمار بازی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ مالیاتی ماہرین نے اس تشویشناک رجحان پر خبردار کیا ہے کہ اس سے عام لوگوں کو طویل مدت میں شدید مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکہ میں کھیلوں کی شرط بندی یا اسپورٹس بیٹنگ کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے اور تازہ ترین رپورٹس کے مطابق اس رجحان نے ملکی معیشت اور عام شہریوں کے ذاتی مالیات کے لیے خطرسے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ بہت سے امریکی شہری اپنے ریٹائرمنٹ اور اسٹاک پورٹ فولیو کے اثاثے فروخت کر کے یا خالی کر کے اس اضافی رقم کو کھیلوں کی شرط بندی میں جھونک رہے ہیں۔ مالیاتی اور معاشی ماہرین نے اس عمل کو ایک انتہائی نقصان دہ فیصلہ قرار دیا ہے جس سے اکثریت کو صرف مالی نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو رہا۔
اس حوالے سے روب منک جیسے نوجوانوں کی مثالیں سامنے آ رہی ہیں جو کم عمری میں ہی شرط بندی کی لت کا شکار ہو گئے۔ روب منک جب انیس سال کے تھے اور کالج کے کلاس روم میں بیٹھے تھے، انہوں نے نیویارک یانکیز کے میچ پر پہلی شرط لگائی، جس کے بعد وہ زندگی میں پہلی بار قرض کے دلدل میں پھنس گئے۔ اب ستائیس سال کی عمر میں وہ اس کے تباہ کن اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ایپس اور آن لائن پلیٹ فارمز کی آسان رسائی نے نوجوان نسل کے لیے شرط بازی کو ایک کھیل کی طرح پیش کیا ہے، لیکن اس کے نتائج انتہائی بھیانک ہیں۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق، جو لوگ اپنے طویل مدتی سرمایہ کاری کے کھاتوں یا اسٹاکس کو نکال کر جوئے اور شرط بازی میں رقم لگاتے ہیں، وہ درحقیقت اپنے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ میں سرمائے کی افزائش اور محفوظ مستقبل کے برعکس، کھیلوں کی شرط بندی ایک ایسی دلدل ہے جہاں گھر اور جمع پونجی کے لٹنے کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ اس سے نہ صرف انفرادی سطح پر خاندان تباہ ہو رہے ہیں بلکہ مجموعی طور پر معاشرتی سطح پر بھی ذہنی تناؤ اور مالیاتی ناہمواری میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکومتی حلقوں اور سماجی تنظیموں کی جانب سے اب یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اسپورٹس بیٹنگ کی ترویج کرنے والی ایپس اور اشتہارات پر کڑی نظر رکھی جائے تاکہ معصوم شہریوں، بالخصوص نوجوانوں کو اس مالیاتی تباہی سے بچایا جا سکے بصورت دیگر اس رجحان کے آنے والے دنوں میں مزید تباہ کن معاشی نتائج سامنے آئیں گے۔