LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کا اثر تنخواہوں پر: اپالو کی نئی رپورٹ جاری

News Image
اپالو کی جانب سے کی گئی ایک حالیہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت ملازمتوں کے خاتمے کی بجائے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی رفتار کو سست کر رہی ہے۔ کم تنخواہ والے طبقے کو اس کا سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے جبکہ اعلیٰ سطح کی ملازمتیں اس اثر سے محفوظ ہیں۔
معروف مالیاتی ادارے اپالو کی جانب سے کی گئی ایک تازہ ترین تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) براہ راست ملازمتیں ختم کرنے کے بجائے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی رفتار کو متاثر کر رہی ہے۔ تین سو اکیس مختلف پیشوں کا جائزہ لینے کے بعد محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جن شعبوں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال زیادہ ہے، وہاں سنہ دو ہزار تئیس کے بعد سے تنخواہوں میں اضافے کی رفتار سست روی کا شکار ہو گئی ہے اور اس میں چھ اعشاریہ سات فیصد تک سست روی دیکھی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تحقیق میں روزگار کے خاتمے کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ منفی اثرات سامنے نہیں آئے ہیں، یعنی ملازمین اپنی ملازمتوں پر تو برقرار ہیں لیکن ان کی تنخواہیں اس شرح سے نہیں بڑھ رہی ہیں جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ اس تنخواہ کے فرق کا سب سے زیادہ منفی اثر نچلے طبقے اور کم آمدنی والے ملازمین پر پڑا ہے۔ کم ترین تنخواہوں والے quartile میں یہ فرق دس اعشاریہ سات فیصد تک دیکھا گیا ہے، جو کہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اے آئی کا بوجھ سب سے زیادہ نچلے درجے کے کارکنان اٹھا رہے ہیں۔ اس کے برعکس، اعلیٰ ترین آمدنی والے پیشوں اور کیٹیگریز میں مصنوعی ذہانت کی وجہ سے تنخواہوں کی نمو پر کوئی منفی اثرات ریکارڈ نہیں کیے گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ مہارت کے حامل افراد مصنوعی ذہانت کو اپنے کام میں ایک اوزار کے طور پر استعمال کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی اہمیت بازار میں برقرار ہے اور ان کے معاوضے کم نہیں ہوئے۔ یہ پہلا موقع ہے جب کسی بڑے تجزیے میں اتنے وسیع پیمانے پر افرادی قوت پر مصنوعی ذہانت کے معاشی اثرات کا اتنی باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔ ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ اگرچہ اے آئی فوری طور پر بڑے پیمانے پر بے روزگاری کا سبب نہیں بن رہی، تاہم یہ مستقبل میں آمدنی کے عدم مساوات کو مزید گہرا کر سکتی ہے، جس پر پالیسی سازوں کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔