LIVE
Loading Breaking News...

کیتھی ووڈ کی اسپیس ایکس میں دو کروڑ اکیاسی لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری

News Image
آرک انویسٹمنٹ مینجمنٹ کی سربراہ کیتھی ووڈ نے مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے دوران اسپیس ایکس کے شیئرز خرید لیے ہیں۔ انہوں نے اس معروف ٹیک اسٹاک میں دو کروڑ اکیاسی لاکھ ڈالر کی بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔
آرک انویسٹمنٹ مینجمنٹ کی سربراہ اور معروف سرمایہ کار کیتھی ووڈ نے ایک بار پھر مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے پسندیدہ ٹیک اسٹاک میں بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق انہوں نے اسپیس ایکس کے شیئرز خریدنے کے لیے دو کروڑ اکیاسی لاکھ ڈالر کی رقم خرچ کی ہے، جو ان کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔ کیتھی ووڈ عموماً مارکیٹ میں قیمتوں کے گرنے یا تبدیل ہونے پر اپنے پسندیدہ اور ابھرتے ہوئے تکنیکی منصوبوں میں حصص کی خریداری بڑھا دیتی ہیں تاکہ طویل مدت میں بہتر منافع حاصل کیا جا سکے۔ اسپیس ایکس جیسی بڑی اور جدید خلائی و ٹیکنالوجی کمپنی میں کیتھی ووڈ کی جانب سے پوزیشن مضبوط کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ اس کے مستقبل کے بارے میں انتہائی پرامید ہیں۔ حالیہ دنوں میں مارکیٹ کے اندر مختلف ٹیک کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں، جن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آرک انویسٹمنٹ نے اپنی سرمایہ کاری کو مزید وسعت دی ہے۔ یہ قدم نہ صرف ان کے کاروباری اعتماد کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس شعبے میں دیگر سرمایہ کاروں کے لیے بھی ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ اسپیس ایکس میں کی گئی اس تازہ ترین سرمایہ کاری سے کیتھی ووڈ کا پورٹ فولیو مزید مستحکم ہو گیا ہے۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق، مارکیٹ کے اس قسم کے اتار چڑھاؤ بڑے سرمایہ کاروں کے لیے بہترین موقع فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ کم قیمت پر قیمتی اثاثے حاصل کر سکیں۔ آرک انویسٹمنٹ مینجمنٹ کا شمار دنیا کے ان اداروں میں ہوتا ہے جو مستقبل کی ٹیکنالوجیز اور خلائی ریسرچ جیسے شعبوں میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور طویل مدتی منصوبوں پر یقین رکھتے ہیں۔ اس خریداری کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ تکنیکی شعبے میں سرمایہ کاری کے رجحانات میں مزید تیزی آئے گی۔ کیتھی ووڈ کے اس اقدام کو سرمایہ کاری کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف ان کے اپنے فنڈز کو تقویت ملے گی بلکہ مجموعی طور پر ٹیک اسٹاکس کے مارکیٹ شیئرز پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس قسم کی مزید بڑی سرمایہ کاریاں دیکھنے میں آ سکتی ہیں۔