LIVE
Loading Breaking News...

چینی ہیومنائیڈ روبوٹس نے بیجنگ روبوٹ گیمز میں انسانی ریکارڈ توڑ دیئے

News Image
بیجنگ میں شروع ہونے والے ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کے پہلے ہی روز چینی روبوٹس نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کمال کر دکھایا۔ ان جدید روبوٹس نے دوڑ اور اونچی چھلانگ کے مقابلوں میں انسانوں کے پرانے ریکارڈز کو پیچھے چھوڑ دیا۔
بیجنگ میں شروع ہونے والے اولمپکس کی طرز کے پہلے ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کے افتتاحی روز ہی حیرت انگیز مناظر دیکھنے میں آئے جہاں چینی ہیومنائیڈ روبوٹس نے اپنی برق رفتار کارکردگی سے تمام دیکھنے والوں کو دنگ کر دیا۔ ان مقابلوں کے دوران جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل ان روبوٹس نے کھیلوں کے میدان میں انسانوں کے قائم کردہ کئی دیرینہ ریکارڈز کو پاش پاش کر دیا۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ مقابلوں کے دوران سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بننے والا لمحہ 100 میٹر کی دوڑ کا تھا، جہاں چینی روبوٹس نے اپنی غیر معمولی رفتار کا مظاہرہ کیا۔ تکنیکی ماہرین کی زیر نگرانی تیار کردہ ان روبوٹس نے اپنی ساخت اور انجن کی بدولت اسپرنٹ کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ ڈالے۔ اس شاندار کارکردگی نے دنیا بھر کے سائنسی حلقوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ مستقبل قریب میں روبوٹس عام انسانوں ہی نہیں بلکہ نامور ایتھلیٹس کے مقابل بھی کس قدر طاقتور ثابت ہو سکتے ہیں۔ صرف دوڑ ہی نہیں بلکہ ہائی جمپ کے میدان میں بھی چینی ہیومنائیڈ روبوٹس نے بلند و بالا چھلانگیں لگا کر نئی تاریخ رقم کی۔ روبوٹ کی لچک، توازن اور میکانکی طاقت نے ثابت کر دیا کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس اب عملی میدان میں توقعات سے کہیں زیادہ تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ اس ایونٹ میں دنیا بھر کی ریسرچ ٹیمیں اور کمپنیاں اپنی جدید ترین تخلیقات کے ساتھ شریک ہیں تاکہ روبوٹکس کی دنیا میں اپنی برتری ثابت کر سکیں۔ اس کامیاب اور تاریخی ایونٹ کے بعد اب یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا آنے والے برسوں میں کھیلوں کے مقابلوں میں روبوٹس کا انسانوں کے ساتھ مقابلہ کرایا جائے گا یا روبوٹس کے الگ مقابلے منعقد ہوں گے۔ بیجنگ کے اس گراؤنڈ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ انسان اور مشین کا یہ تعلق اب ایک نئے اور سنسنی خیز دور میں داخل ہو چکا ہے، جس کے دور رس اثرات ٹیکنالوجی اور کھیل دونوں شعبوں پر مرتب ہوں گے۔