Technology
مصنوعی ذہانت کی انفراسٹرکچر پر بھاری سرمایہ کاری اور اخراجات
یو بی ایس کی ایک رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے پر اخراجات میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کمپنیاں آنے والے برسوں میں کھربوں ڈالر خرچ کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔
عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری کا ایک ایسا طوفان آیا ہے جس نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ معروف مالیاتی ادارے یو بی ایس (UBS) کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں جنہیں ہائپر اسکیلرز کہا جاتا ہے، اپنے کلاؤڈ ریونیو کا 102 فیصد حصہ کیپٹل ایکسپینڈیچر یعنی کیپیکس (Capex) پر خرچ کر رہی ہیں۔ یہ رجحان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں آگے نکلنے کے لیے مالیاتی وسائل کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، یہ کمپنیاں آنے والے چند سالوں میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے پر تقریباً 4.1 ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ یہ ہندسہ گزشتہ چھ سالوں کے دوران خرچ کیے گئے 1.3 ٹریلین ڈالر کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔ اس غیر معمولی اضافے کی وجہ سے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر، جدید ہارڈ ویئر کی خریداری اور اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے درکار وسائل کی طلب میں آسمان چھوتی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
تاہم، مالیاتی تجزیہ کاروں نے اس صورتحال پر مخلوط ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایک طرف جہاں یہ سرمایہ کاری مستقبل کی ٹیکنالوجی کو تشکیل دینے کے لیے ناگزیر سمجھی جا رہی ہے، وہیں دوسری طرف کلاؤڈ ریونیو سے زیادہ خرچ کرنے کے رجحان پر خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان بھاری اخراجات کے تناسب سے آمدنی میں اضافہ نہ ہوا تو کمپنیوں کو طویل مدت میں منافع کے حصول کے لیے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مجموعی طور پر، مصنوعی ذہانت کا یہ موجودہ دور ٹیکنالوجی کی تاریخ کا سب سے مہنگا ترین دور ثابت ہو رہا ہے۔ ایمیزون، گوگل اور مائیکروسافٹ جیسی بڑی کمپنیاں اس ریس کی پیش پیش ہیں اور وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہیں کہ وہ اس تبدیلی کے مرکز میں رہیں۔ آنے والا وقت ہی یہ طے کرے گا کہ اے آئی انفراسٹرکچر پر کی جانے والی یہ کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کس حد تک سودمند ثابت ہوتی ہے۔