Technology
سولڈ اسٹیٹ بیٹری ٹیکنالوجی اور برقی گاڑیوں کا مستقبل
ایل جی انرجی سلوشن کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر بڑی سولڈ اسٹیٹ بیٹریوں کی تیاری اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ یہ ٹیکنالوجی برقی گاڑیوں کے مقابلے اسمارٹ فونز میں تقریباً ایک دہائی پہلے متعارف کرائی جائے گی۔
ایل جی انرجی سلوشن (LG Energy Solution) کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ برقی گاڑیوں میں سولڈ اسٹیٹ بیٹریوں کے استعمال کو عام ہونے میں ابھی کم از کم ایک دہائی کا وقت لگ سکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق، اس جدید ٹیکنالوجی کی راہ میں سب سے بڑا اور اب تک حل نہ ہونے والا مسئلہ بڑے سائز کے سیلز کو بڑے پیمانے پر تیار کرنا ہے۔ اگرچہ دنیا بھر میں بیٹری مینوفیکچرنگ کے عمل میں تیزی آ رہی ہے اور حال ہی میں امریکہ میں نئی بیٹری فیکٹریوں کا افتتاح بھی کیا گیا ہے، لیکن سولڈ اسٹیٹ ٹیکنالوجی کو تجارتی پیمانے پر گاڑیوں کے لیے ڈھالنا ایک کٹھن مرحلہ ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ روایتی لیتھিয়াম آئن بیٹریوں کے مقابلے میں سولڈ اسٹیٹ بیٹریاں زیادہ محفوظ اور زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم ان کی پیداواری لاگت اور صنعتی پیمانے پر تیاری اب بھی ایک بڑا سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ کمپنی کی جانب سے مزید بتایا گیا ہے کہ یہ جدید ٹیکنالوجی برقی گاڑیوں سے پہلے اسمارٹ فونز اور دیگر چھوٹے پورٹیبل ڈیجیٹل آلات میں متعارف کروائے جانے کا امکان ہے۔ تخمینی طور پر، اسمارٹ فونز میں سولڈ اسٹیٹ بیٹریوں کا استعمال برقی گاڑیوں کے مقابلے میں تقریباً ایک دہائی پہلے شروع ہو سکتا ہے کیونکہ چھوٹے سائز کے سیلز بنانا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ اس پیشرفت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ بیٹری ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، لیکن آٹوموبائل انڈسٹری میں انقلاب برپا کرنے کے لیے صنعت کو ابھی مزید تکنیکی رکاوٹوں کو عبور کرنا ہوگا۔