LIVE
Loading Breaking News...

ایرانی صدر کا امریکہ سے معاہدے کا دفاع، امن کے لیے بہترین قرار

News Image
ایرانی صدر نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتہ کو خطے میں پائیدار امن کے حصول کے لیے بہترین موقع قرار دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ طویل عرصے سے جاری تعطل کو ختم کرنے اور جنگی صورتحال سے باہر نکلنے کا یہی بہترین وقت ہے۔
تہران: ایران کے صدر نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے حالیہ سمجھوتہ کا دفاع کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بہترین آپشن قرار دیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کو جنگ اور امن کے بین بین رہنے والی نام نہاد صورتحال یعنی 'نہ جنگ، نہ امن' کے تعطل سے باہر نکالنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران اس وقت طاقت کی پوزیشن میں ہے اور یہ ہی وہ مناسب وقت ہے جب تنازعات کو سفارتی طریقوں سے ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، تہران اور واشنگ턴 کے مابین اس پیشرفت کو خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی حرکیات میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایران کے اعلیٰ سیاسی حلقوں اور رہنماؤں کی جانب سے بھی اس جنگی صورتحال کے خاتمے کے لیے آوازیں بلند کی جا رہی ہیں، اور زیادہ تر کا ماننا ہے کہ مستقل تنازع کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔ امریکی میمورنڈم یا معاہدے کو ایرانی قیادت کی طرف سے سراہا جانا اس بات کا غماز ہے کہ فریقین اب سفارت کاری کو ترجیح دینے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ خطے کو مزید تباہی اور اقتصادی بحران سے بچایا جا سکے، جس سے برسوں سے متاثرہ عام عوام کو بھی ریلیف مل سکے گا۔ تاہم، اس معاہدے کے حامیوں اور ناقدین کے درمیان بحث کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ملک کے اندر کچھ حلقے اس پیشرفت کو لے کر محتاط انداز اپنائے ہوئے ہیں، مگر صدارتی سطح پر اس کی بھرپور حمایت یہ واضح کرتی ہے کہ تہران اب اس مستقل کشمکش کو ختم کرنے میں سنجیدہ ہے۔ عالمی برادری بالخصوص مشرق وسطیٰ کے امور پر نظر رکھنے والے ممالک بھی اس پیشرفت کو بغور دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس کے اثرات صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کی سلامتی اور معیشت پر براہ راست پڑیں گے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس سفارتی کامیابی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مزید کون سے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔