LIVE
Loading Breaking News...

الپس کے گلیشیر سے ملنے والی پانچ ہزار سال پرانی لاش اور اوٹزی دی آئس مین

News Image
سال 1991 میں کوہ پیمائی کرنے والوں کو الپس کے گلیشیر سے ایک لاش ملی تھی جو تحقیق کے بعد پانچ ہزار تین سو سال پرانی نکلی۔ اس پراسرار دریافت نے تانبے کے دور کے انسان کے بارے میں اہم تاریخی حقائق دنیا کے سامنے عیاں کیے۔
سن 1991 کا واقعہ ہے جب یورپی ملکوں کے الپس کے پہاڑوں پر ٹریکنگ کرنے والے کچھ کوہ پیماؤں نے ایک گلیشیر کے پگھلتے ہوئے برفانی حصّے میں انسانی لاش دیکھی۔ ابتدائی طور پر اس لاش کو کسی عام حادثے کا شکار ہونے والے کوہ پیم کی لاش سمجھا گیا اور پولیس کو فوری طور پر اطلاع دی گئی۔ تاہم، جب سائنسی ماہرین اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے اس پراسرار لاش کا باریک بینی سے جائزہ لیا، تو یہ انکشاف ہوا کہ یہ معاملہ کسی حالیہ حادثے کا نہیں بلکہ تاریخ کا ایک بہت بڑا معمہ ہے۔ تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ یہ لاش کوئی عام لاش نہیں بلکہ تانبے کے دور سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے انسان کی ہے جو برف میں ہزاروں سال سے محفوظ چلا آ رہا تھا۔ اس دریافت کو تاریخ میں اوٹزی دی آئس مین کے نام سے شہرت ملی اور یہ دنیا کی قدیم ترین طبعی طور پر محفوظ شدہ لاشوں میں شمار کی گئی۔ سائنسی تجزیے سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ شخص آج سے تقریباً پانچ ہزار تین سو سال پہلے اس دنیا میں موجود تھا۔ ہزاروں سال تک برف کی تہوں میں دبا رہنے کے باوجود اس کی جلد، اعضا اور لباس حیرت انگیز طور پر محفوظ حالت میں پائے گئے۔ ماہرین نے جب اس پر مزید تحقیق کی تو انکشاف ہوا کہ اس کے جسم پر مختلف قسم کے ٹیٹوز بھی بنے ہوئے تھے، جو اس دور کی تہذیب اور ثقافت کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے پاس سے قدیم ہتھیار، استعمال کی اشیاء اور اس کے معدے میں موجود آخری خوراک کے ذرات بھی ملے، جن سے اس کے آخری اوقات اور خوراک کے بارے میں مصدقہ سائنسی معلومات حاصل ہوئیں۔ اس انوکھی دریافت نے آثارِ قدیمہ اور تاریخی علوم میں انقلاب برپا کر دیا اور محققین کو تانبے کے دور کے انسانوں کے طرزِ زندگی، رہن سہن اور صحت کے بارے میں براہ راست شواہد فراہم کیے۔ اوٹزی دی آئس مین کی یہ دریافت آج بھی دنیا بھر کے سائنسدانوں اور تاریخ دانوں کے لیے خصوصی دلچسپی کا مرکز بنی ہوئی ہے، جس کے ذریعے قدیم انسانی تاریخ کے کئی ان سلجھے رازوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔