LIVE
Loading Breaking News...

سعودی عرب اور ایران تنازع: عراق میں کشیدگی اور امریکی حملے

News Image
عراق میں تہران سے وابستہ نیم فوجی تنظیم پر ہونے والے امریکی اور سعودی حملوں کے بعد شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ یہ صورتحال خطے میں تناؤ کو مزید بڑھانے کا سبب بن سکتی ہے۔
عراق میں تہران کے حامی ایک نیم فوجی گروہ پر ہونے والے مبینہ امریکی اور سعودی فضائی حملوں کے بعد خطے میں سیاسی اور عسکری کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں عراقی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور عوامی سطح پر اس کے خلاف شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں ایک نئے پراکسی وار کے آغاز کا اشارہ دے سکتی ہے جس کے اثرات براہ راست خلیجی ممالک پر پڑیں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی عسکری کارروائیوں سے سعودی عرب کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں کیونکہ ریاض پہلے ہی یمن اور خطے کے دیگر امور کی وجہ سے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ دوسری جانب تہران کی جانب سے بھی اس قسم کی جارحیت پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے جس سے خطے کا امن مزید داؤ پر لگ گیا ہے۔ عالمی سطح پر سفارتی حلقے اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر اس کشیدگی کو فوری طور پر بات چیت کے ذریعے ختم نہ کیا گیا تو یہ ایک بڑی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ عراقی حکومت پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر ہونے والی اس طرح کی بیرونی کارروائیوں کا نوٹس لے اور ملکی خودمختاری کا دفاع یقینی بنائے۔ آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال انتہائی حساس رہنے کا امکان ہے اور تمام فریقین کے اگلے اقدامات پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے۔