World
آرمی چیف فیل্ড مارشل سید عاصم منیر کا دورہ تہران اور خطے کی صورتحال
آرمی چیف فیل্ড مارشل سید عاصم منیر خطے میں امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے پیر کے روز تہران کا دورہ کریں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق اس دورے کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا اور علاقائی سلامتی کے لیے کوششیں جاری رکھنا ہے۔
چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پیر کے روز تہران کا دورہ کریں گے تاکہ خطے میں امن اور سلامتی کے قیام کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں اس دورے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آرمی چیف ایک اعلیٰ سطحی سرکاری وفد کی قیادت کریں گے۔ اس دورے کا بنیادی مقصد ایران اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنا اور خطے میں امن و امان کے فروغ کے لیے پاکستان کے ثالثی کردار کو جاری رکھنا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اپنے اس دورے کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے اعلیٰ ترین عسکری اور سول حکام سے ملاقاتیں کریں گے اور اہم علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ یہ دورہ ایسے وقت میں طے پایا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے، بالخصوص امریکہ کی جانب سے ایران پر نئی پابندیوں کی تیاریاں کی جا رہی ہیں جن سے اسلامی جمہوریہ کی معیشت پر مزید دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ پیر کے روز متوقع ان نئی پابندیوں کے حوالے سے امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ تاریخ کی سخت ترین پابندیوں میں سے ایک ہوں گی۔ واضح رہے کہ فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے فریقین کے درمیان اہم ثالثی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں رواں برس اپریل میں عارضی جنگ بندی اور اسلام آباد میں فریقین کے درمیان براہ راست مذاکرات بھی ہوئے تھے، جب کہ جون میں جنیوا میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط بھی کیے گئے تھے۔ اگرچہ بعد میں کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا گیا، تاہم پاکستان نے خطے میں پائیدار امن کے حصول کے لیے اپنی کوششیں ترک نہیں کیں اور اسی سلسلے میں پاکستانی قیادت کی جانب سے تہران کے دورے مسلسل جاری ہیں۔