LIVE
Loading Breaking News...

AI اور CVE سیکیورٹی بحران: اسپتال کے اسکینرز خطرے میں

News Image
مصنوعی ذہانت کے ذریعے سیکیورٹی کمزوریوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جو اسپتالوں کے اسکینرز کے بنیادی ڈیٹا بیس سے آگے نکل گیا ہے۔ وفاقی ڈیٹا بیس کی جانب سے سی وی ای ریکارڈز کا تجزیہ بند کرنے سے طبی آلات میں حفاظتی خلا پیدا ہو رہا ہے۔
جدید دور میں مصنوعی ذہانت کے تیزی سے فروغ کے ساتھ ہی سیکیورٹی کی دنیا میں نئے چیلنجز جنم لے رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ذریعے سیکیورٹی کمزوریوں (CVEs) میں ہونے والے اضافے نے اس ڈیٹا بیس کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا ہے جس پر اسپتالوں کے اہم اسکینرز اور طبی آلات انحصار کرتے ہیں۔ اس صورتحال نے طبی شعبے میں سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اپریل سے ایک اہم وفاقی ڈیٹا بیس نے بیشتر سی وی ای ریکارڈز کا تجزیہ کرنا روک دیا ہے، جس کے نتیجے میں طبی آلات اور اسپتالوں کے نیٹ ورکس میں ایک خطرناک خلا پیدا ہو رہا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ حفاظتی خلا عام اسکینرز کے نتائج میں ظاہر نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے اسپتال انتظامیہ اور تکنیکی ماہرین خود کو ایک جھوٹے اطمینان میں مبتلا پاتے ہیں۔ صاف ستھرا اسکین اب اس بات کی ضمانت نہیں رہا کہ نظام واقعی محفوظ ہے۔ طبی آلات پر سائبر حملوں کے خطرات پہلے ہی سے موجود تھے، لیکن اب مصنوعی ذہانت کے استعمال سے خطرات کی نوعیت اور رفتار یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ روایتی ڈیٹا بیسز اتنی تیزی سے نئی کمزوریوں کو ٹریک کرنے سے قاصر ہیں جتنی تیزی سے مصنوعی ذہانت کے آلات سیکیورٹی خامیوں کو سامنے لا رہے ہیں۔ اس توازن کے بگڑنے سے اسپتالوں میں استعمال ہونے والی حساس طبی مشینری ہیکرز کے نشانے پر آ سکتی ہے۔ اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے سائبر سیکیورٹی کے ماہرین نے فوری طور پر وفاقی سطح پر ڈیٹا بیس کے نظام کو جدید بنانے اور اسپتالوں کے لیے متبادل اسکیننگ کے طریقے وضع کرنے پر زور دیا ہے۔ جب تک اس ڈیٹا بیس کے بحران کو حل نہیں کیا جاتا، طبی اداروں کو اپنے ڈیجیٹل اثاثوں کی حفاظت کے لیے روایتی اسکینرز کے علاوہ اضافی حفاظتی اقدامات بھی کرنے ہوں گے تاکہ مریضوں کا ڈیٹا اور طبی آلات محفوظ رہ سکیں۔