LIVE
Loading Breaking News...

ارب پتی والدین کی پریشانی: جنریشن زی کے نوجوان اور نوکریاں

News Image
دولت مند خاندانوں کو یہ تشویش لاحق ہو چکی ہے کہ ان کے جنریشن زی سے تعلق رکھنے والے بچے جدید جاب مارکیٹ میں نوکریاں سنبھالنے یا برقرار رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ دولت کے مشیروں کے مطابق یہ خدشات محض توہمات نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہیں۔
موجودہ دور میں جہاں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے اثرات افرادی قوت پر گہرے ہوتے جا رہے ہیں اور جاب مارکیٹ میں مقابلہ بازی روز بروز سخت تر ہوتی جارہی ہے، دنیا کے امیر ترین افراد بھی اب متوسط طبقے کی طرح فکرمند دکھائی دینے لگے ہیں۔ دولت مند خاندانوں کو اب یہ سنجیدہ تشویش لاحق ہو چکی ہے کہ ان کے جنریشن زی یعنی نئی نسل سے تعلق رکھنے والے بچے جدید اور سخت کارپوریٹ ماحول میں اپنی نوکریاں برقرار رکھنے سے قاصر ہیں۔ مالیاتی مشیروں کا کہنا ہے کہ یہ خوف اور تشویش محض قیاس آرائیاں نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی ہے جس کا سامنا دنیا بھر کے کاروباری خاندانوں کو کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرینِ اقتصادیات کا ماننا ہے کہ نئی نسل کے کام کرنے کے انداز، ترجیحات اور لائف اسٹائل میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے، جس کی وجہ سے وہ روایتی دفتری ماحول اور طویل مدتی ملازمتوں کے ساتھ خود کو آسانی سے ہم آہنگ نہیں کر پا رہے۔ اس کے علاوہ، معاشی اتار چڑھاؤ اور ٹیکنالوجی کی برق رفتاری نے بھی نوکریوں کے استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جو ارب پتی والدین کے لیے ایک بڑا دردِ سر بنتا جا رہا ہے۔ دولت کے مشیروں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مؤکلین کو اس حوالے سے خصوصی مشاورت فراہم کر رہے ہیں کہ وہ کس طرح اپنی اگلی نسل کو مالی ذمہ داری، پیشہ ورانہ لچک اور جاب مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر سکتے ہیں۔ اگرچہ ان خاندانوں کے پاس بے پناہ دولت اور وسائل موجود ہیں، تاہم اس کے باوجود وہ اپنے بچوں کے روشن مستقبل اور پیشہ ورانہ کیریئر کے حوالے سے عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ کاروباری حلقوں میں یہ بحث زور پکڑتی جا رہی ہے کہ آیا روایتی تربیت کے طریقے موجودہ جنریشن زی کے لیے کافی ہیں یا والدین کو اپنے بچوں کو معاشی طور پر زیادہ خودمختار بنانے کے لیے نئے اور سخت طریقے اپنانا ہوں گے۔