LIVE
Loading Breaking News...

مظہر عباس کا بیان: ہر چند سال بعد نیا پاکستان بنانے کی کوشش

News Image
معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ اس ملک میں ہر چند سال بعد ایک نیا پاکستان بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے سیاسی عدم استحکام اور بار بار کے تجربات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
معروف پاکستانی صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے اپنے ایک حالیہ تبصرے میں ملک کی سیاسی اور سماجی صورتحال پر گہری گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس خطے میں ہر چند سال بعد ایک 'نیا پاکستان' بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کا یہ مؤقف ملک کے بار بار بدلتے سیاسی بیانیے اور روایتی حکومتی ڈھانچے میں اصلاحات کے نام پر ہونے والے تجربات کی عکاسی کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رجحان ملک میں تسلسل کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے جہاں ہر نئی قیادت پچھلے تمام نظام کو یکسر مسترد کر کے ایک نئے سفر کا آغاز کرتی ہے۔ مظہر عباس نے مزید نشاندہی کی کہ اس طرح کے تسلسل کی کمی سے ملکی ادارے، معیشت اور عوامی فلاح کے منصوبے بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ جب بھی اقتدار کی بساط پلٹتی ہے تو طویل المدتی پالیسیوں کے بجائے وقتی اور وقتی نعروں پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ عوامی سطح پر بھی بار بار کے ان نعروں اور دعوؤں سے ایک قسم کی بے یقینی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، کیونکہ عام شہری روزمرہ کی مشکلات سے نبرد آزما ہوتا ہے جبکہ سیاسی حلقے مبینہ تبدیلیوں کے مباحث میں الجھے رہتے ہیں۔ ماہرینِ سیاسیات کا بھی ماننا ہے کہ ملک کو اس وقت کسی 'نئے پاکستان' کے نعرے کی نہیں بلکہ موجودہ نظام کے اندر شفافیت، قانون کی بالادستی اور تسلسل کی اشد ضرورت ہے۔ جب تک پالیسیوں میں تسلسل اور اداروں کی مضبوطی کو یقینی نہیں بنایا جائے گا، اس وقت تک اس قسم کے تجربات سے کوئی پائیدار بہتری لانا ممکن نہیں ہوگا۔ مظہر عباس کا یہ بیان اس بحث کو دوبارہ زندہ کرتا ہے کہ ہمیں نعرے بازی سے ہٹ کر عملی اور سنجیدہ اقدامات کی طرف توجہ دینی ہوگی تاکہ ملک کو حقیقی معنوں میں مستحکم کیا جا سکے۔