LIVE
Loading Breaking News...

سعودی عرب میں شوگر اور کیٹون ٹریکنگ کے جدید آلے کی منظوری

News Image
سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی نے ایک جدید بائیو سینسر ڈیوائس کی مارکیٹنگ کی منظوری دے دی ہے جو خون میں گلوکوز اور کیٹون کی سطح کو ایک ساتھ مانیٹر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ طبی آلہ ذیابیطس کے مریضوں کی صحت کی نگرانی میں ایک انقلابی پیش رفت ثابت ہوگا۔
سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (SFDA) نے صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے ایک جدید ترین بائیو سینسر ڈیوائس کی مارکیٹنگ اور فروخت کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ یہ جدید آلہ اپنی نوعیت کا پہلا ایسا ٹیکنالوجی شاہکار ہے جو مسلسل بنیادوں پر خون میں گلوکوز اور کیٹون کی سطح کو ایک ہی وقت میں ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس پیش رفت کو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک انقلابی قدم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اب مریضوں کو اپنی صحت کے اہم اشاریوں کو جاننے کے لیے الگ الگ ٹیسٹ کروانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس ڈیوائس کی سب سے بڑی خوبی اس کی 'ریئل ٹائم مانیٹرنگ' کی صلاحیت ہے، جو مریضوں کو ان کے جسمانی حالات سے ہر لمحہ باخبر رکھتی ہے۔ خون میں کیٹون کی سطح کی بروقت نگرانی خاص طور پر ان مریضوں کے لیے انتہائی ضروری ہے جنہیں کیٹون ایسڈوسس (Ketoacidosis) جیسی پیچیدہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس آلے کے استعمال سے ڈاکٹرز اور مریض دونوں کو زیادہ درست ڈیٹا حاصل ہوگا، جس سے علاج کے عمل کو بہتر بنانے اور ہنگامی طبی صورتحال سے بچنے میں مدد ملے گی۔ ماہرین صحت کے مطابق، یہ ٹیکنالوجی نہ صرف مریضوں کے معیار زندگی کو بہتر بنائے گی بلکہ ہسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں کی شرح میں بھی کمی کا باعث بنے گی۔ سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کی جانب سے اس ڈیوائس کی منظوری اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مملکت سعودی عرب ویژن 2030 کے تحت صحت کے شعبے میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔ یہ ڈیوائس اب طبی مراکز اور فارمیسیوں میں دستیاب ہوگی، جس سے ہزاروں مریض مستفید ہو سکیں گے۔ واضح رہے کہ اس ڈیوائس کا استعمال ان افراد کے لیے نہایت آسان بنایا گیا ہے جنہیں ذیابیطس کا عارضہ لاحق ہے۔ یہ ایک چھوٹا اور جدید بائیو سینسر ہے جو جلد پر آسانی سے نصب ہو جاتا ہے اور بغیر کسی تکلیف کے مریض کی صحت کا ڈیٹا مسلسل ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقل کرتا رہتا ہے۔ مستقبل میں اس طرح کی ٹیکنالوجیز صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو مزید فعال اور مریضوں کی رسائی کے لیے آسان بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔