Technology
وائی فائی روٹر سے انسانی نقل و حرکت کی ٹریکنگ ممکن
جرمنی کے کارلسروہی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے ایک ایسا تجربہ کیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وائی فائی روٹر کی آواز کی لہروں کے ذریعے انسانوں کی نگرانی ممکن ہے۔ یہ ٹیکنالوجی فون ساتھ نہ ہونے کے باوجود عوامی مقامات پر لوگوں کو ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
جدید دور میں وائی فائی روٹرز ہماری روزمرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکے ہیں، لیکن ایک حالیہ سائنسی تحقیق نے اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے تشویشناک انکشافات کیے ہیں۔ جرمنی کے معروف کارلسروہی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (KIT) کے سائنسدانوں نے اپنے تجربات کے دوران یہ ثابت کیا ہے کہ وائی فائی روٹرز سے خارج ہونے والی آواز کی لہروں (sound waves) کو انسانوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ تحقیق اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ ہم کس طرح غیر محسوس طریقے سے عوامی مقامات پر ٹریکنگ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
محققین کے مطابق، یہ ٹیکنالوجی عام وائی فائی سگنلز میں خلل ڈالنے والی لہروں کا تجزیہ کرکے کام کرتی ہے۔ جب کوئی شخص کمرے یا کسی عوامی جگہ سے گزرتا ہے، تو وہ وائی فائی سگنلز کے بہاؤ میں معمولی تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ اس عمل کو 'وائی فائی سنسنگ' کہا جاتا ہے، جس کی مدد سے روٹرز یہ شناخت کر سکتے ہیں کہ کون سا شخص کہاں موجود ہے اور کس سمت میں حرکت کر رہا ہے۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس نگرانی کے لیے صارف کے پاس اسمارٹ فون یا کسی بھی قسم کے الیکٹرانک ڈیوائس کا ہونا ضروری نہیں ہے، کیونکہ یہ روٹرز براہ راست انسان کے جسم سے ٹکرانے والی لہروں کا ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں سیکیورٹی کے لیے تو کارآمد ثابت ہو سکتی ہے، لیکن پرائیویسی کے حوالے سے یہ ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ گھر پر اپنا فون چھوڑ کر جانے کے باوجود، عوامی مقامات پر موجود روٹرز کا جال آپ کی نقل و حرکت کو ٹریک کر سکتا ہے۔ اگرچہ یہ تجربہ فی الحال ایک کنٹرولڈ ماحول میں کیا گیا ہے، لیکن اس کے نتائج مستقبل میں نجی زندگی کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں سائبر سیکیورٹی کے ماہرین اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ وائی فائی کے انفراسٹرکچر میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں تاکہ اس طرح کی غیر قانونی نگرانی سے بچا جا سکے۔
یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی کے فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے مضر اثرات سے نمٹنا بھی ضروری ہے۔ اگرچہ یہ عمل ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن جیسے جیسے وائی فائی نیٹ ورک مزید پھیل رہے ہیں، خطرات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ عوامی وائی فائی نیٹ ورکس کے استعمال میں احتیاط برتیں اور اس بات سے آگاہ رہیں کہ ان کی موجودگی کو تکنیکی آلات کے ذریعے ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔