Technology
سولر پاور سے چلنے والا چلی کا پہلا سالمن فارم
چلی میں ایک سالمن فارم نے تیرتے ہوئے سولر پینلز اور بیٹری سسٹم کی مدد سے اپنی بجلی کی 57 فیصد ضروریات پوری کر لی ہیں۔ اس جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے سالانہ 36 ہزار گیلن سے زائد ڈیزل کی کھپت میں کمی متوقع ہے۔
ماحولیاتی تبدیلیوں کے اس دور میں چلی کی ماہی پروری کی صنعت نے ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ 2025 میں متعارف کرائے گئے اس جدید ترین منصوبے کے تحت ایک سالمن فارم نے سمندر پر تیرتے ہوئے سولر پینلز کا استعمال شروع کیا ہے، جو اب اس فارم کی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک بڑی پیش رفت ہے بلکہ روایتی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی طرف ایک عملی قدم بھی ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، یہ شمسی اور بیٹری سسٹم فارم کی سالانہ بجلی کی ضروریات کا تقریباً 57 فیصد حصہ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس منصوبے کے دوررس فوائد سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ روایتی طور پر، اس قسم کے دور دراز سمندری فارمز بجلی کی پیداوار کے لیے ڈیزل جنریٹرز پر مکمل طور پر انحصار کرتے تھے، جو نہ صرف مہنگے ثابت ہوتے ہیں بلکہ ماحول کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔ اس نئے فلوٹنگ سولر سسٹم کی بدولت، توقع کی جا رہی ہے کہ سالانہ بنیادوں پر تقریباً 36 ہزار 750 گیلن ڈیزل کی بچت ہوگی۔ یہ نہ صرف فارمنگ کمپنی کے لیے آپریٹنگ اخراجات میں بڑی کمی کا باعث بنے گا بلکہ کاربن کے اخراج کو کم کر کے سمندری حیات کے تحفظ میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ چلی کے اس ماڈل کو عالمی سطح پر دیگر آبی زراعت کے منصوبوں کے لیے ایک مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سمندر کی سطح پر نصب کیے گئے یہ پینلز شدید موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور بیٹری اسٹوریج کے ساتھ مل کر بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بناتے ہیں۔ اس کامیابی نے ثابت کر دیا ہے کہ قابل تجدید توانائی اب صرف زمین تک محدود نہیں رہی بلکہ سمندری حدود میں بھی اس کا موثر استعمال ممکن ہے۔ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کی مزید توسیع سے فش فارمنگ کی صنعت مکمل طور پر سبز توانائی پر منتقل ہو سکتی ہے جو ایک پائیدار معیشت کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔