World
تونس میں تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے کا واقعہ اور عوامی ردعمل
تونس کے جنوب مشرقی ساحل پر اٹلی جانے والی کشتی ڈوبنے سے آٹھ تارکین وطن ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس المناک واقعے کے بعد مقامی شہریوں کی جانب سے شدید احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔
تونس کے جنوب مشرقی ساحل پر تارکین وطن کی ایک کشتی ڈوبنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں کم از کم آٹھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ حکام کے مطابق اس کشتی میں کل 15 تیونسی باشندے سوار تھے جو غیر قانونی طور پر سمندری راستے سے اٹلی جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ کشتی ڈوبنے کی اطلاع ملتے ہی مقامی ریسکیو ٹیموں اور بحریہ نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں، تاہم خراب موسم اور سمندری لہروں کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ ریسکیو ٹیموں نے کچھ افراد کو زندہ بچا لیا ہے جنہیں طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس المناک واقعے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی جس کے بعد علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی شہریوں نے بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ سمندر کے راستے جان لیوا سفر کرنے والے نوجوانوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ احتجاج کے دوران شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے تاکہ نوجوانوں کو اس طرح کے پرخطر اقدامات کرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔
واضح رہے کہ تونس کا ساحل شمالی افریقہ سے یورپ جانے والے تارکین وطن کے لیے ایک اہم نقطہ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے ہر سال ہزاروں افراد بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنی زندگیاں خطرے میں ڈال کر اٹلی یا یورپ کے دیگر ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہا خبردار کیا ہے کہ سمندری راستے سے یہ سفر انتہائی غیر محفوظ ہے اور اکثر کشتیوں کی خستہ حالی کے باعث ایسے حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ تونس کی حکومت نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انسانی اسمگلنگ کرنے والے گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
فی الحال مقامی انتظامیہ اور پولیس کی بھاری نفری کو متاثرہ علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈوبنے والی کشتی کے واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔ لواحقین میں کہرام مچا ہوا ہے اور مقامی آبادی اس سانحے پر سوگوار ہے۔ آنے والے دنوں میں حکومت اور تارکین وطن کی جانب سے سمندری نقل مکانی کے حوالے سے مزید پالیسیوں کا اعلان متوقع ہے۔