LIVE
Loading Breaking News...

نیواڈا جنگلاتی آگ: ہزاروں افراد بے گھر، ایمرجنسی نافذ

News Image
امریکہ کی ریاست نیواڈا میں جنگلاتی آگ کے پھیلاؤ کے بعد حکام نے ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ آگ کے تیزی سے بڑھتے ہوئے دائرہ کار کی وجہ سے ہزاروں شہریوں کو اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونا پڑا۔
امریکہ کی ریاست نیواڈا میں جنگلات میں لگنے والی آگ نے سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا ہے۔ آگ کی شدت اس قدر زیادہ ہے کہ مقامی حکام نے ریاست بھر میں ہنگامی حالت (State of Emergency) کا اعلان کر دیا ہے۔ آگ کے شعلے تیزی سے رہائشی علاقوں کی جانب بڑھ رہے ہیں، جس سے املاک اور انسانی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ریسکیو ادارے اور فائر فائٹرز دن رات آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، تاہم تیز ہواؤں کے باعث آگ کا پھیلاؤ جاری ہے۔ حکومتی ترجمان کے مطابق، متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو فوری طور پر انخلاء کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ متاثرین کے لیے عارضی شیلٹرز قائم کیے گئے ہیں جہاں انہیں خوراک اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ فائر فائٹرز کو آگ بجھانے کے مشکل ترین عمل کا سامنا ہے کیونکہ متاثرہ علاقے دشوار گزار ہیں اور آگ نے وسیع رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نیواڈا میں خشک سالی اور بلند درجہ حرارت نے آگ کے پھیلاؤ کو مزید تیز کر دیا ہے، جس کی وجہ سے یہ آگ قابو سے باہر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق درجنوں گھر مکمل طور پر خاکستر ہو چکے ہیں جبکہ مزید سینکڑوں گھروں کو خطرہ لاحق ہے۔ متاثرہ علاقوں میں بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہو چکا ہے، جس سے امدادی کاموں میں مزید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ریاست نیواڈا کی انتظامیہ نے وفاقی حکومت سے بھی مدد کی اپیل کی ہے تاکہ مزید وسائل کو بروئے کار لا کر شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ مقامی حکام شہریوں کو تلقین کر رہے ہیں کہ وہ انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔ ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث امریکہ کے مغربی حصوں میں جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ نیواڈا میں جاری اس آگ کے بعد ماہرین نے مزید احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب تک موسم کی صورتحال میں بہتری نہیں آتی، تب تک کسی بھی قسم کی غفلت مہنگی پڑ سکتی ہے۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور متاثرین کی بحالی کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔