LIVE
Loading Breaking News...

امریکی انتخابات اور ایران کشیدگی، مائیک جانسن کا بیان

News Image
امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے کہا ہے کہ ریپبلکن پارٹی نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ جاری تناؤ کا نومبر سے قبل ختم ہونا ریپبلکنز کے لیے سودمند ثابت ہوگا۔
امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی مائیک جانسن نے ایک حالیہ بیان میں اس بات پر پختہ یقین کا اظہار کیا ہے کہ ریپبلکن پارٹی نومبر میں ہونے والے اہم ترین انتخابات میں واضح کامیابی حاصل کرے گی۔ جانسن نے اپنی پارٹی کی حکمت عملی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عوامی حمایت کا رجحان ان کے حق میں ہے اور وہ انتخابی عمل میں اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ سیاسی ماحول میں ریپبلکنز کی کامیابی یقینی ہے اور وہ اپنے منشور کے تحت امریکی عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس گفتگو کے دوران مائیک جانسن نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اگر نومبر کے انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ تناؤ یا کوئی بھی فوجی تنازع اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے تو یہ ریپبلکن پارٹی کے لیے انتخابی اعتبار سے سودمند ثابت ہوگا۔ ان کا ماننا ہے کہ خارجہ پالیسی کے مسائل امریکی رائے دہندگان پر اثر انداز ہوتے ہیں، اور اگر خطے میں امن قائم ہوتا ہے تو یہ موجودہ انتظامیہ کی ناکامیوں کو عیاں کرے گا اور ریپبلکن پارٹی کو فائدہ پہنچائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، مائیک جانسن کا یہ بیان امریکی داخلی سیاست میں خارجہ امور کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ریپبلکن پارٹی مسلسل بائیڈن انتظامیہ پر الزام عائد کر رہی ہے کہ وہ ایران کے معاملے پر کمزور پالیسی اپنائے ہوئے ہے، جس سے عالمی سطح پر امریکہ کا اثر و رسوخ متاثر ہوا ہے۔ جانسن کے مطابق، ریپبلکن پارٹی کا ایجنڈا ملک کی معیشت اور سکیورٹی پر مرکوز ہے، اور وہ انتخابی مہم کے دوران ایران کے ساتھ کشیدگی کو ایک اہم موضوع کے طور پر اجاگر کرتے رہیں گے۔ نومبر کے انتخابات امریکی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہوں گے، جس میں ایوانِ نمائندگان کی نشستیں ریپبلکن پارٹی کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ مائیک جانسن کا یہ اعتراف کہ عالمی تنازعات کا خاتمہ انتخابات پر اثر انداز ہو سکتا ہے، اس بات کا اشارہ ہے کہ پارٹی قیادت ہر پہلو پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ جہاں ایک طرف ریپبلکنز اپنی جیت کے لیے پرامید ہیں، وہیں عالمی برادری کی نظریں بھی اس بات پر جمی ہیں کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی میں آئندہ کیا تبدیلیاں رونما ہوں گی۔