Business
بلیک راک کا نیا انویسٹمنٹ فنڈ: کیا بی اے ایل آئی جے ای پی آئی سے بہتر ہے؟
بلیک راک کا نیا سرمایہ کاری فنڈ بی اے ایل آئی (BALI) اب جے ای پی آئی (JEPI) کا متبادل بن کر سامنے آیا ہے جو مساوی فیس کے ساتھ بہتر منافع فراہم کر رہا ہے۔ رواں سال اس فنڈ نے اپنی بہترین حکمت عملی کی بدولت مارکیٹ میں نمایاں برتری حاصل کی ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں سرمایہ کاری کے شوقین افراد کے لیے ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں بلیک راک کی جانب سے متعارف کرایا گیا نیا فنڈ بی اے ایل آئی (BALI) سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فنڈ جے ای پی آئی (JEPI) کے مقابلے میں ایک مضبوط حریف ثابت ہوا ہے۔ اگر ہم اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو بی اے ایل آئی کی فیس جے ای پی آئی کے برابر یعنی 0.35 فیصد رکھی گئی ہے، جبکہ اس کا منافع (yield) 7.6 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش پیشکش ہے۔
اس سال کی کارکردگی کے حوالے سے بات کی جائے تو بی اے ایل آئی نے جے ای پی آئی کو 10 پوائنٹس کے واضح فرق سے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس کامیابی کی بڑی وجہ میگا کیپ ٹیکنالوجی کمپنیوں میں اس فنڈ کی بھاری سرمایہ کاری ہے۔ چونکہ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی کے بڑے نام مارکیٹ کو لیڈ کر رہے ہیں، اس لیے بی اے ایل آئی کی حکمت عملی نے اسے روایتی فنڈز کے مقابلے میں بہتر نتائج فراہم کرنے کے قابل بنایا ہے۔ یہ فنڈ ان سرمایہ کاروں کے لیے خاص طور پر موزوں ہے جو اپنے ریٹائرمنٹ اکاؤنٹس یا آئی آر اے (IRA) پورٹ فولیو کو مزید مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔
مالیاتی مشیروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ جے ای پی آئی نے طویل عرصے تک مارکیٹ میں اپنی ساکھ بنائی ہے، لیکن بلیک راک کی جانب سے فراہم کردہ یہ نیا آپشن سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔ ٹیکنالوجی سیکٹر پر زیادہ انحصار اس فنڈ کو اتار چڑھاؤ والی مارکیٹ میں بھی ایک جارحانہ پوزیشن دیتا ہے۔ تاہم، کسی بھی سرمایہ کاری سے قبل یہ ضروری ہے کہ سرمایہ کار اپنی خطرات مول لینے کی صلاحیت اور طویل مدتی اہداف کو مدنظر رکھیں، کیونکہ ٹیکنالوجی سیکٹر میں تیزی کے ساتھ ساتھ مارکیٹ کے خطرات بھی منسلک ہوتے ہیں۔
مستقبل کے تناظر میں دیکھا جائے تو بی اے ایل آئی کی کارکردگی سرمایہ کاری کی دنیا میں ایک نئے رحجان کو جنم دے سکتی ہے۔ اگر یہ فنڈ اسی رفتار سے اپنی برتری برقرار رکھتا ہے تو آنے والے مہینوں میں مزید سرمایہ کار اس کی طرف متوجہ ہوں گے۔ ماہرین سرمایہ کاروں کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ اپنے پورٹ فولیو میں تبدیلی کرتے وقت فیس کے ڈھانچے اور فنڈ کی بنیادی سرمایہ کاری کی حکمت عملی کا بغور مطالعہ کریں تاکہ وہ اپنی توقعات کے مطابق بہترین منافع حاصل کر سکیں۔