LIVE
Loading Breaking News...

ایلون مسک کی نظر میں مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں چین کا پلڑا بھاری

News Image
ٹیکنالوجی کے ماہر ایلون مسک نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں چین امریکہ کا سب سے بڑا اور مضبوط حریف ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے ماضی کی پیش گوئیوں کو دہراتے ہوئے ٹیکنالوجی کی عالمی مسابقت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کے معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک نے حال ہی میں ایک اہم بیان دیا ہے جس میں انہوں نے مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں چین کو امریکہ کا سب سے بڑا حریف قرار دیا ہے۔ مسک کا ماننا ہے کہ چین جس تیزی سے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تحقیق اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، اس سے وہ عالمی سطح پر سبقت لے جانے کی پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر امریکی ادارے اور حکومت نے اس رفتار کو برقرار نہ رکھا تو مستقبل میں تکنیکی برتری چین کے پاس ہو سکتی ہے۔ یہ بیان ایلون مسک کی جانب سے 2011 میں کی گئی ان پیش گوئیوں کی یاد دلاتا ہے جن میں انہوں نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں عالمی طاقتوں کے بدلتے ہوئے توازن پر بات کی تھی۔ ماہرین کے مطابق، ایلون مسک کا یہ موقف اس وقت سامنے آیا ہے جب ان کی اپنی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کو بھی عالمی سطح پر نئے راکٹ حریفوں کا سامنا ہے۔ چین کی جانب سے خلائی ٹیکنالوجی میں کی جانے والی پیش رفت اور مصنوعی ذہانت کے انضمام نے مغربی ممالک بالخصوص امریکہ کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ مسک کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین کی جانب سے ڈیٹا کے وسیع ذخائر اور حکومت کی سرپرستی میں ٹیکنالوجی کے منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد، انہیں آرٹیفیشل انٹیلی جنس میں سبقت دلانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ مزید برآں، ایلون مسک نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت محض سافٹ ویئر تک محدود نہیں بلکہ یہ انڈسٹریل آٹومیشن اور دفاعی نظاموں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ مسک نے متنبہ کیا کہ اگر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے قواعد و ضوابط اور اس کی ترقی کے حوالے سے امریکہ نے حکمت عملی میں تبدیلی نہ کی تو وہ پیچھے رہ سکتا ہے۔ ان کے مطابق، چین جس طرح سے اپنے تعلیمی نظام اور آر اینڈ ڈی (تحقیق و ترقی) میں اے آئی کو شامل کر رہا ہے، وہ مستقبل کی عالمی معیشت اور عسکری طاقت کے تعین میں بنیادی عنصر ثابت ہوگا۔ آخر میں، ایلون مسک نے خبردار کیا کہ یہ مقابلہ صرف ایک تکنیکی جنگ نہیں بلکہ ایک طویل مدتی مسابقت ہے جو دہائیوں تک جاری رہے گی۔ اسپیس ایکس کے راکٹ منصوبوں اور اے آئی کے شعبے میں ان کی اپنی سرمایہ کاری کے تناظر میں، مسک کا یہ بیان عالمی مارکیٹ اور پالیسی سازوں کے لیے ایک انتباہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مغربی ممالک اس بڑھتی ہوئی تکنیکی رقابت کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں اور آیا وہ چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کی رفتار کو برابر کرنے میں کامیاب ہو پائیں گے یا نہیں۔