World
امریکہ ایران جنگ اور اسٹیفن والٹ کا تجزیہ، ٹرمپ کی پالیسیاں زیر بحث
نامور سیاسی ماہر اسٹیفن والٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایران کے معاملے میں اب کوئی مؤثر آپشن باقی نہیں بچا۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیاں امریکہ کو مضبوط کرنے کے بجائے اندرونی اور بیرونی طور پر کمزور کر رہی ہیں۔
بین الاقوامی امور اور سیاسیات کے نامور ماہر اسٹیفن والٹ نے ایک حالیہ تجزیے میں دعویٰ کیا ہے کہ سابق اور ممکنہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایران کے تنازع میں اب مزید کوئی آپشن باقی نہیں رہا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور دنیا بھر کے مبصرین اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اسٹیفن والٹ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگرچہ ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکہ کو دنیا کی سب سے مضبوط اور طاقتور قوم بنا دیں گے، لیکن ان کی موجودہ اور ماضی کی پالیسیاں اس دعوے کے برعکس نتائج برآمد کر رہی ہیں۔ والٹ کے مطابق، امریکی قیادت کی جانب سے اپنائی جانے والی سخت گیر حکمت عملی نے ملک کو مضبوط بنانے کے بجائے عملی طور پر کمزور کر دیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر امریکہ کی پوزیشن کو نقصان پہنچایا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کے معاملے میں واشنگٹن کے پاس سفارتی راستے تیزی سے محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ اقتصادی پابندیوں اور عسکری دباؤ کے باوجود تہران کے رویے میں کوئی بڑی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ روایتی امریکی ہتھکنڈے اب کارگر ثابت نہیں ہو رہے۔ اسٹیفن والٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب تک پالیسی سازوں کی جانب سے زمینی حقائق کا ادراک نہیں کیا جاتا، اس وقت تک مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام اور امریکہ کے اپنے اسٹریٹجک اہداف کا حصول ایک ناممکن خواب ہی رہے گا۔ یہ صورتحال نہ صرف امریکی انتظامیہ بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جس کے دور رس نتائج آنے والے دنوں میں سامنے آ سکتے ہیں۔