LIVE
Loading Breaking News...

ڈی جی آئی ایس آئی کی بحرین کے ولی عہد سے ملاقات کی اندرونی کہانی

News Image
ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننت جنرل محمد عاصم ملک نے بحرین کے ولی عہد اور وزیر اعظم سلمان بن حمد آل خلیفہ سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننت جنرل محمد عاصم ملک نے اتوار کے روز بحرین کے ولی عہد اور مسلح افواج کے کمانڈر شہزادہ سلمان بن حمد آل خلیفہ سے ایک اہم ملاقات کی۔ بحرین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ ملاقات شاہی رہائش گاہ رفح محل میں منعقد ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ ملاقات کے دوران علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بحرین کے ولی عہد نے پاک بحرین تعلقات کی گہرائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے مشترکہ مقاصد کے حصول اور ترقی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے علاقائی سلامتی اور استحکام کی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں پاکستان اور اس کے اتحادیوں کے اہم اور کلیدی کردار کا بھی اعتراف کیا۔ اس موقع پر لیفٹیننت جنرل محمد عاصم ملک نے دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے بحرین کی قیادت کے عزم کا شکریہ ادا کیا اور بحرین کی مسلسل ترقی اور خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ملاقات میں بحرین کے وزیر اعظم کے دربار کے وزیر، وزیر خزانہ، نائب وزیر داخلہ، ڈپٹی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اور سپریم ڈیفنس کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل بھی شریک تھے۔ یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں پاکستان اور بحرین کے درمیان دفاعی اور سفارتی سطح پر اعلیٰ ترین رابطوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دو ہفتے قبل بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک رابطہ کیا تھا جس میں مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط کرنے پر پاکستان کو مبارکباد دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ جون میں بحرین کے نیشنل گارڈ کے کمانڈر جنرل شیخ محمد بن عیسیٰ بن سلمان آل خلیفہ نے بھی راولپنڈی میں جی ایچ کیو کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے آرمی چیف اور دیگر اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقاتیں کی تھیں۔ ماہرین کے مطابق موجودہ دورہ جات دونوں برادر اسلامی ملکوں کے درمیان سٹریٹجک اور عسکری تعاون کو ایک نئی سطح پر لے جانے میں اہم سنگ میل ثابت ہو رہے ہیں۔