LIVE
Loading Breaking News...

پی ٹی آئی کے بانی اور علیمہ خان کے درمیان اختلافات کی خبریں

News Image
حذیفہ رحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی نے اپنی ہمشیرہ علیمہ خان کے حوالے سے انتہائی سخت زبان کا استعمال کیا۔ اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے بانی کے قریبی حلقوں اور سیاسی مبصرین کے درمیان اس وقت ایک نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے جب حذیفہ رحمان نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی نے اپنی ہمشیرہ علیمہ خان کے حوالے سے انتہائی سخت اور تلخ الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ حذیفہ رحمان کی جانب سے سامنے آنے والا یہ بیان سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے اور لوگ اس حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حذیفہ رحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی بانی کی علیمہ خان کے ساتھ حالیہ بات چیت کے دوران صورتحال کافی کشیدہ رہی اور اس دوران بانی نے ایسے کلمات کہے جو پارٹی کے اندرونی تعلقات میں تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اگرچہ تحریک انصاف کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی ہے، لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ بات درست ہے تو اس کے اثرات پارٹی کی مستقبل کی حکمت عملی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ علیمہ خان طویل عرصے سے پی ٹی آئی کے جلسوں، احتجاجی مظاہروں اور عدالتی پیشیوں کے دوران اپنے بھائی کے حق میں کھل کر آواز اٹھاتی رہی ہیں اور انہیں پارٹی کا ایک فعال رکن سمجھا جاتا ہے۔ ماضی میں بھی وہ مشکل حالات میں اپنے بھائی کے ساتھ کھڑی دکھائی دی ہیں، تاہم اب حذیفہ رحمان کے حالیہ بیان نے ان کے اور بانی کے مابین تعلقات میں ممکنہ دوری کی خبروں کو تقویت دی ہے۔ فی الحال سیاسی پنڈت اس معاملے کو پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کی کڑی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ عوام اور پارٹی کارکنان اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ اپوزیشن جماعتیں ان خبروں کا فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا پی ٹی آئی کی قیادت یا خود علیمہ خان اس دعوے پر کوئی ردعمل دیتی ہیں یا نہیں، تاکہ حقائق واضح ہو سکیں۔