Technology
ٹک ٹاک وائرل ٹرینڈ کی حقیقت: جعلی ویڈیوز اور پولیس کی وارننگ
ٹک ٹاک پر وائرل ہونے والے 'کیٹ اِن دی ہیٹ' ٹرینڈ نے صارفین میں غیر ضروری خوف اور تشویش پیدا کر دی ہے۔ برطانیہ اور آئرلینڈ کی پولیس نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ اس ٹرینڈ سے متعلق پھیلائی جانے والی تصاویر مکمل طور پر جعلی اور بے بنیاد ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر حال ہی میں ایک نیا ٹرینڈ تیزی سے مقبول ہوا ہے جسے 'کیٹ اِن دی ہیٹ' کا نام دیا گیا ہے۔ اس ٹرینڈ کے تحت صارفین کچھ ایسی ڈراؤنی اور پراسرار تصاویر اور ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں جن کا مقصد محض تفریح اور ویوز حاصل کرنا ہے۔ تاہم، اس رجحان نے نوجوانوں اور عام صارفین کے درمیان ایک غیر ضروری خوف اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ لوگ ان تصاویر کو حقیقی سمجھ کر سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں، جس سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ایک قسم کی الجھن پیدا ہو گئی ہے۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے برطانیہ اور آئرلینڈ کی پولیس فورسز نے باضابطہ بیانات جاری کیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ تمام تصاویر اور ویڈیوز مصنوعی ذہانت یا ایڈیٹنگ ٹولز کے ذریعے بنائی گئی ہیں اور ان کا حقیقت سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ اس قسم کے مواد کو شیئر کرنے سے نہ صرف معاشرے میں خوف پھیلتا ہے بلکہ یہ سائبر قوانین کی خلاف ورزی بھی ہو سکتی ہے جس سے غلط معلومات کا پھیلاؤ ہوتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی کے ماہرین نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے والدین اور صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ہر چیز کو سچ نہ مانیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرل ہونے کی دوڑ میں بعض اوقات ایسی ویڈیوز بنائی جاتی ہیں جو بچوں اور کم عمر افراد کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ایسی افواہوں کو مزید پھیلانے سے گریز کریں اور کسی بھی غیر معمولی مواد کی اطلاع پلیٹ فارم کی انتظامیہ کو دیں۔
مستقبل میں اس طرح کے ٹرینڈز سے نمٹنے کے لیے سوشل میڈیا کمپنیوں کو مزید سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں غلط معلومات کتنی تیزی سے پھیل سکتی ہیں اور کیسے ایک معمولی تفریحی ٹرینڈ بڑے پیمانے پر خوف کا باعث بن سکتا ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اپنی آن لائن سرگرمیوں میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی ایسی ویڈیو کو بلا سوچے سمجھے آگے نہ بڑھائیں جس سے کسی دوسرے کو ذہنی تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو۔