World
مقبوضہ مغربی کنارے میں کم سن فلسطینی کی شہادت: ہزاروں افراد کی شرکت
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کے ایک پرتشدد چھاپے کے دوران گولی لگنے سے شہید ہونے والے 14 سالہ اسلام احمد ماہر العجوری کو ان کے آبائی علاقے میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا ہے اور فلسطینی عوام نے اسرائیلی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی قابض فورسز کی جانب سے کیے جانے والے ایک حالیہ پرتشدد چھاپے کے دوران 14 سالہ فلسطینی نوجوان اسلام احمد ماہر العجوری کو گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ نوجوان کی شہادت کے بعد ان کی میت کو آبائی علاقے میں لایا گیا جہاں سوگواروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اسلام احمد ماہر العجوری کی نماز جنازہ میں سیکڑوں فلسطینیوں نے شرکت کی، جس میں ہر آنکھ اشکبار تھی۔ شرکاء نے اس موقع پر اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ معصوم بچوں کے قتل عام کا نوٹس لے۔ شہید کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ان کا بچہ نہتا تھا اور اس نے کسی بھی قسم کی مزاحمت نہیں کی تھی، لیکن اسرائیلی فوجیوں نے اسے براہ راست گولی کا نشانہ بنایا۔
مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے ایسی کارروائیاں معمول بن چکی ہیں، جس کے نتیجے میں ہر روز فلسطینی نوجوانوں اور بچوں کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔ انسانی حقوق کی مقامی تنظیموں نے اس واقعے کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے 'قتلِ عمد' کا نام دیا ہے۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج طاقت کا بے جا استعمال کر رہی ہے جس سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ رہا ہے۔
واضح رہے کہ مغربی کنارے میں جاری کشیدگی میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسرائیلی چھاپوں، گھروں کی مسماری اور نہتے شہریوں پر فائرنگ کے واقعات نے فلسطینی عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ دوسری جانب عالمی سطح پر اسرائیل کے اس رویے پر تنقید تو کی جاتی ہے لیکن عملی اقدامات نہ ہونے کے باعث ایسی کارروائیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اسلام احمد العجوری کی شہادت نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کے زخموں کو تازہ کر دیا ہے اور آزادی کی جدوجہد کو ایک نئی تحریک دی ہے۔