LIVE
Loading Breaking News...

نانسی پلوسی اور ڈیموکریٹک خواتین کے درمیان تنازع، اے آئی چیٹ بوٹ پر گرما گرمی

News Image
سابق امریکی اسپیکر نانسی پلوسی کی جانب سے ایک سیاسی حریف کے کیمپین چیٹ بوٹ پر تنقید کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کی خواتین رہنماؤں نے جوابی وار کیا ہے۔ ان خواتین رہنماؤں نے نانسی پلوسی کے اعتراضات کو مصنوعی غصہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
واشنگٹن: امریکی ایوان نمائندگان کی سابق اسپیکر نانسی پلوسی اور ڈیموکریٹک پارٹی کی دیگر خواتین ارکان کے درمیان سیاسی محاذ آرائی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب ایک انتخابی مہم کے اے آئی چیٹ بوٹ کو لے کر دونوں اطراف سے سخت بیانات سامنے آئے۔ نانسی پلوسی نے اس ماہ کے اوائل میں ایک سیاسی حریف کی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تخلیق کو جنسی تعصب پر مبنی قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جس پر اب خود ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی خواتین رہنماؤں نے جوابی وار کیا ہے۔ متعلقہ امیدوار کی حمایت کرنے والی خواتین رہنماؤں اور حامیوں کا کہنا ہے کہ نانسی پلوسی کا یہ ردعمل سراسر غیر ضروری اور بناوٹی غصے پر مبنی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس قسم کے اے آئی ٹولز کا مقصد ووٹرز کے ساتھ رابطہ بہتر بنانا اور جدید طریقوں سے مہم چلانا ہے، نہ کہ کسی کے خلاف تضحیک آمیز رویہ اپنانا۔ خواتین رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ پارٹی کے اندر اس طرح کے عوامی اختلافات سے سیاسی مخالفین کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، اس لیے تمام رہنماؤں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابی مہمات میں مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا استعمال اب تنازعات کو جنم دے رہا ہے۔ روایتی سیاستدان اور نئی نسل کے رہنما ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے مختلف زاویہ فکر رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے پارٹی صفوں میں بھی اختلافات ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ نانسی پلوسی کا شمار ڈیموکریٹک پارٹی کے سینئر ترین اور با اثر ترین رہنماؤں میں ہوتا ہے، اس لیے ان کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کو سیاسی حلقوں میں انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس پورے معاملے نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دے دیا ہے کہ آیا امریکی سیاست میں مصنوعی ذہانت کا استعمال ضابطہ اخلاق کے دائرے میں ہو رہا ہے یا نہیں۔ آئندہ دنوں میں اس تنازع کے مزید سیاسی اثرات سامنے آنے کی توقع ہے کیونکہ فریقین اپنی اپنی پوزیشن پر قائم ہیں اور ایک دوسرے کے دلائل کو مسترد کر رہے ہیں۔ ڈیموکریٹک قیادت کے لیے یہ صورتحال اندرونی طور پر بھی ایک چیلنج بنتی جا رہی ہے جس سے نمٹنے کے لیے مصالحتی کوششیں بھی کی جا سکتی ہیں۔