LIVE
Loading Breaking News...

ایرانی صدر کا معیشت بچانے کے لیے امریکی معاہدے کا دفاع

News Image
ایرانی صدر نے ملک کی معیشت کو بچانے اور تعطل کا شکار صورتحال کو ختم کرنے کے لیے امریکہ کے ساتھ معاہدے کا پرزور دفاع کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ تہران کے لیے اب جنگ اور امن کی غیر یقینی صورتحال سے آگے بڑھنے کا وقت آ گیا ہے۔
تہران: ایرانی صدر نے معیشت کو بچانے اور ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالنے کے لیے امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت کا پرزور دفاع کیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ بیانات میں ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعطل کی کیفیت، جسے 'نہ جنگ، نہ امن' کہا جاتا ہے، اب ختم ہونا چاہیے اور تہران کو اس سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی صدر کی طرف سے یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں باہمی دھمکیوں کے سائے منڈلا رہے ہیں اور معاشی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ ملک کے اقتصادی مفادات کا تحفظ سب سے اہم ہے۔ دوسری جانب، ایران کے اعلیٰ سیاستدانوں اور حکومتی شخصیات نے بھی ملک میں جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے پر زور دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی صدر نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی ہے کہ جنگ کو ایک ایسے وقت میں ختم کرنا دانشمندی ہے جب ملک ایک مضبوط پوزیشن میں ہو۔ اس پالیسی کا مقصد نہ صرف اندرونی معیشت کو استحکام دینا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر سفارتی تنہائی کو کم کرنا بھی ہے تاکہ پابندیوں کے اثرات کو زائل کیا جا سکے۔ خطے کے سیاسی اور معاشی مبصرین اس پیش رفت کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان اس طرح کے سفارتی مباحث عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس کے مشرق وسطیٰ کے پورے خطے پر گہرے اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ایرانی حکومت کی جانب سے یہ لچکدار رویہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک اندرونی معاشی چیلنجز سے نبردآزما ہے، اور عوام مہنگائی اور بیرونی دباؤ کے خلاف ریلیف کے منتظر ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ تہران اب روایتی محاذ آرائی کے بجائے سفارت کاری اور اقتصادی بقا کو ترجیح دینے پر غور کر رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس مبینہ معاہدے یا مفاہمت کی راہ میں حائل رکاوٹیں کس حد تک دور کی جا سکتی ہیں اور اس سے خطے کے امن پر کیا اثرات پڑیں گے۔