LIVE
Loading Breaking News...

مکہ دفاعی معاہدہ اور ایران کی شمولیت: اہم سفارتی پیشرفت

News Image
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے ایران کو نو تشکیل شدہ مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔ یہ اقدام خطے میں تناؤ کو کم کرنے اور سیکیورٹی تعاون کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
ریاض اور تہران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد خطے سے ایک اور بڑی خبر سامنے آئی ہے جس کے مطابق ایران کو مبینہ طور پر نئے قائم کردہ مکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بننے کی دعوت دی گئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے مل کر اس اہم دفاعی اور سیکیورٹی اتحاد کی بنیاد رکھی ہے جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ اس پیشرفت کو خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے جہاں روایتی حریف ممالک سفارت کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دعوت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں کمی لانے اور خطے میں جاری تنازعات کے پرامن حل کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ایران اس معاہدے میں شمولیت اختیار کرتا ہے تو اس سے خلیجی خطے میں اعتماد کی فضا بحال ہوگی اور برسوں سے جاری تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے میں مدد ملے گی۔ اسلام آباد، ریاض اور انقرہ کے درمیان بڑھتا ہوا یہ سہ فریقی تعاون خطے میں ایک نئی سلامتی کی چھتری فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کے مثبت اثرات پوری مسلم دنیا پر مرتب ہوں گے۔ دوسری جانب، سفارتی حلقوں میں اس معاہدے کو 'مسلم نیٹو' یا بغداد پیکٹ کی طرح ایک اور دفاعی بلاک سے بھی تشبیہ دی جا رہی ہے، تاہم اس کی بنیادی توجہ مشترکہ دفاع کی بجائے علاقائی سلامتی، انسداد دہشت گردی اور اقتصادی استحکام پر مرکوز ہے۔ پاکستان اور ترکی کا اس عمل میں کلیدی کردار ادا کرنا اس بات کا غماز ہے کہ مسلم دنیا کے بڑے ممالک اب باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر امن اور ترقی کے لیے یکجا ہو رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے اس دعوت پر تاحال کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن عالمی رہنماؤں کی طرف سے اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاہدے کے خدوخال اور ایران کی شمولیت کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر لانا ناگزیر تھا، اور یہ دفاعی معاہدہ اس سمت میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں بہتری کے بعد، یہ معاہدہ خطے میں کسی بھی بڑی فوجی کشیدگی کو روکنے کے لیے ایک مؤثر سفارتی آلہ کار کے طور پر ابھر رہا ہے۔