LIVE
Loading Breaking News...

مارک روفالو اور پیراماؤنٹ تنازعہ: اداکار کا سام دشمنی کے الزامات پر جوابی حملہ

News Image
مشہور اداکار مارک روفالو نے پیراماؤنٹ کی جانب سے ان پر عائد کردہ سام دشمنی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے انتہائی قابل مذمت قرار دیا ہے۔ انہوں نے کمپنی کے دعووں کو بددیانتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے۔
ہالی وڈ کے معروف اداکار مارک روفالو نے پیراماؤنٹ کی جانب سے اپنے خلاف عائد کیے گئے 'سام دشمنی' (Antisemitism) کے الزامات پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب مارک روفالو نے ڈیوڈ اور لیری ایلیسن پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ دنیا کی چند تباہ کن اور غیر انسانی قوتوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس بیان کے بعد پیراماؤنٹ کی جانب سے روفالو پر سام دشمنی کا الزام عائد کیا گیا، جس پر اداکار نے فوری طور پر ردعمل دیتے ہوئے اسے ایک 'خوفناک' اور 'مکمل طور پر بددیانت' حرکت قرار دیا ہے۔ مارک روفالو نے اپنے جوابی بیان میں کہا ہے کہ کسی کی پالیسیوں یا کاروباری اقدامات پر تنقید کو سام دشمنی کا رنگ دینا انتہائی غیر اخلاقی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تنقید کسی خاص مذہب یا قومیت کے خلاف نہیں بلکہ ان طاقتوں کے خلاف ہے جو عالمی سطح پر تباہی کا باعث بن رہی ہیں۔ اداکار کا کہنا ہے کہ پیراماؤنٹ کی جانب سے ان کی آواز کو دبانے کے لیے اس طرح کا سنگین الزام لگانا نہ صرف بدقسمتی ہے بلکہ یہ حقائق کو مسخ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اس معاملے پر فلمی دنیا اور سوشل میڈیا پر بھی بحث چھڑ گئی ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ پیراماؤنٹ نے عوامی تنقید سے بچنے کے لیے روفالو کے خلاف یہ بیانیہ استعمال کیا ہے تاکہ اصل مسائل سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ روفالو نے اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی رائے کا اظہار جاری رکھیں گے اور کسی بھی دباؤ میں آ کر اپنی آواز کو خاموش نہیں کریں گے۔ انہوں نے پیراماؤنٹ کے رویے کو تنقید کے بنیادی حق کے منافی قرار دیا ہے۔ یہ تنازعہ اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا ہے جب کارپوریٹ طاقتوں اور فنکاروں کے درمیان تعلقات کو لے کر ہالی وڈ میں پہلے ہی ایک بڑی بحث جاری ہے۔ مارک روفالو، جو سماجی اور سیاسی مسائل پر کھل کر بات کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں، اب ایک بڑی قانونی یا اخلاقی لڑائی کے مرکز میں آ گئے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا پیراماؤنٹ اس معاملے پر مزید کوئی وضاحتی بیان جاری کرتا ہے یا یہ تنازعہ عدالتی یا عوامی سطح پر مزید طول پکڑتا ہے۔