Entertainment
مارک رفالو بمقابلہ پاراماؤنٹ: اداکار کا سام دشمنی کے الزامات پر جوابی ردعمل
مشہور ہالی وڈ اداکار مارک رفالو نے پاراماؤنٹ کی جانب سے ان کے بیانات کو سام دشمنی سے جوڑنے پر سخت تنقید کی ہے۔ اداکار کا کہنا ہے کہ ان کے مؤقف کو غلط رنگ دے کر پیش کرنا سراسر بددیانتی ہے۔
ہالی وڈ کے معروف اداکار اور چار بار آسکر کے لیے نامزد ہونے والے مارک رفالو نے اسٹوڈیو پاراماؤنٹ کی جانب سے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کے جواب میں سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ تنازع اس وقت شروع ہوا جب مارک رفالو نے پاراماؤنٹ اور وارنر برادرز کے درمیان مجوزہ انضمام کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا، جسے اسٹوڈیو نے 'سام دشمن' (Antisemitic) قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا۔ مارک رفالو نے ان الزامات کو نہ صرف مضحکہ خیز بلکہ انتہائی ہولناک اور بنیادی طور پر بددیانتی پر مبنی قرار دیا ہے۔
مارک رفالو نے ہفتے کے روز جاری کردہ اپنے ایک تفصیلی بیان میں واضح کیا کہ ان کے تنقیدی خیالات کو کسی بھی صورت میں نفرت انگیز یا سام دشمنی کے زمرے میں نہیں لایا جانا چاہیے۔ اداکار کا مؤقف ہے کہ انہوں نے ایک کاروباری انضمام کے ممکنہ اثرات اور انڈسٹری کی کارپوریٹ پالیسیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، جس کا کسی مذہب یا نسلی گروہ کے خلاف نفرت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تنقید کو دبانے کے لیے اس قسم کے سنگین الزامات کا سہارا لینا اخلاقی طور پر غلط ہے۔
یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب میڈیا رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی کہ پاراماؤنٹ انتظامیہ اپنے ناقدین کو خاموش کرنے کے لیے ان کے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر رہی ہے۔ مارک رفالو کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ایک بڑے اسٹوڈیو کی جانب سے ایک مشہور شخصیت کو ایسے سنگین الزامات میں گھسیٹنا آزادی اظہار رائے پر حملہ ہے۔ رفالو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ آئندہ بھی اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے نہیں گھبرائیں گے اور انضمام کے حوالے سے ان کے سوالات انڈسٹری کے وسیع تر مفاد میں ہیں۔
فی الحال، پاراماؤنٹ کی جانب سے اس معاملے پر مزید کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے، تاہم ہالی وڈ کے حلقوں میں یہ معاملہ موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے الزامات سے کارپوریٹ سیکٹر میں عوامی بحث کی فضا کو نقصان پہنچتا ہے۔ مارک رفالو کے اس جوابی بیان نے پاراماؤنٹ کو ایک اخلاقی مشکل میں ڈال دیا ہے اور اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا اسٹوڈیو اپنے الزامات پر معافی مانگتا ہے یا تنازع مزید بڑھتا ہے۔