Technology
السان: سمندر کے اندر اے آئی ڈیٹا سینٹر بنانے کا انقلابی منصوبہ
جنوبی کوریا کا شہر السان مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے ورک لوڈ کو سنبھالنے کے لیے پانی کے اندر ڈیٹا سینٹرز کے قیام پر کام کر رہا ہے۔ 51.1 ارب کورین وون کا یہ منصوبہ 2030 تک مکمل کیا جائے گا جس کا مقصد قدرتی سمندری پانی کے ذریعے سرورز کو ٹھنڈا رکھنا ہے۔
جنوبی کوریا کا صنعتی شہر السان مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں درپیش ڈیٹا سینٹرز کے بحران کو حل کرنے کے لیے ایک انتہائی جدید اور منفرد حکمت عملی پر کام کر رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی بڑھتی ہوئی مانگ اور کمپیوٹنگ پاور کی ضرورت نے دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کے لیے بجلی اور کولنگ کے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے السان نے سمندر کی گہرائیوں میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں سمندری پانی کے قدرتی درجہ حرارت کو سرورز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس پروجیکٹ کے لیے 51.1 ارب کورین وون (تقریباً 37 ملین ڈالر) کا بجٹ مختص کیا گیا ہے جو 2030 تک جاری رہے گا۔
اس منصوبے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے درکار بھاری بجلی کی کھپت میں نمایاں کمی آئے گی۔ روایتی ڈیٹا سینٹرز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر ایئر کنڈیشننگ اور کولنگ سسٹم استعمال ہوتے ہیں جو بہت زیادہ بجلی خرچ کرتے ہیں اور ماحول پر بھی منفی اثرات ڈالتے ہیں۔ سمندر کے نیچے نصب یہ ڈیٹا سینٹرز پانی کے قدرتی بہاؤ اور کم درجہ حرارت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انتہائی کفایت شعاری سے کام کر سکیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف ڈیٹا سینٹرز کی کارکردگی میں اضافہ کرے گی بلکہ اے آئی کے بڑھتے ہوئے ورک لوڈ کو پائیدار طریقے سے سنبھالنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔
اگرچہ یہ منصوبہ ابتدائی مراحل میں ہے لیکن اس کے نتائج مستقبل کے لیے انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ السان کے حکام اور تکنیکی ماہرین اس بات پر پرامید ہیں کہ سمندر کے اندر ڈیٹا سینٹرز کا کامیاب تجربہ دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال بنے گا۔ 2030 تک مکمل ہونے والا یہ منصوبہ طویل مدتی تحقیق پر مبنی ہے، جس میں سمندری ماحول کی حفاظت اور ڈیٹا کی ترسیل کے لیے جدید کیبلنگ سسٹم کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف جنوبی کوریا کو ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک نئی بلندی پر لے جائے گا بلکہ عالمی سطح پر ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے روایتی طریقوں میں بھی ایک بڑی تبدیلی لائے گا۔
یہ پیشرفت اس بات کی علامت ہے کہ اب دنیا بھر کے ٹیکنالوجی ادارے گرین انرجی اور قدرتی وسائل کے استعمال پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے دور میں ڈیٹا کی کھپت جس تیزی سے بڑھ رہی ہے، اسے دیکھتے ہوئے سمندری ڈیٹا سینٹرز کا تصور ایک ضرورت بنتا جا رہا ہے۔ السان کا یہ قدم نہ صرف توانائی کے بحران کو ختم کرنے میں مدد دے گا بلکہ اے آئی کے مستقبل کو مزید محفوظ اور ماحول دوست بنانے کی جانب ایک بڑا سنگ میل ثابت ہوگا۔